اسلام آباد/جدہ (MNN)؛ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ ایسے حملے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی منڈیوں کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ وہ، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بحران کے دوران سعودی ولی عہد کی “دانشمندانہ اور مدبرانہ قیادت” کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی حمایت اور کوششوں کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔
سعودی تنصیبات پر حملوں سے علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
رواں ہفتے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اس کے علاوہ عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
حالیہ واقعات نے سعودی عرب کے اہم اقتصادی و توانائی کے انفراسٹرکچر کے تحفظ اور خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلاؤ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
یہ پیش رفت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست میں ہونے والے دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔
معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر یمن کا تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے تو یہ دفاعی معاہدہ عملی طور پر فعال ہو سکتا ہے۔
تاہم دفتر خارجہ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں حوثی اہداف کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نیا دفاعی معاہدہ ابھی حتمی مراحل میں ہے اور اسے فی الحال عملی طور پر نافذ شدہ معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔


