بنجرماسن، انڈونیشیا (MNN)؛ انڈونیشیا کے جاوا سمندر میں خراب موسم اور شدید لہروں کے باعث مسافر فیری ورگو ٹرانسپورٹ 8 الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 129 لاپتا ہوگئے، حکام کے مطابق امدادی کارروائی جاری ہے۔
انڈونیشیا کی قومی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی باسارناس کے مطابق حادثے کے بعد 108 افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ امدادی ٹیمیں مزید افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق فیری ہفتے کے روز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کالیمانتان کے شہر بنجرماسن کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ جہاز میں 243 افراد سوار تھے، جن میں 30 عملے کے ارکان شامل تھے۔
ٹرانسپورٹ وزیر ڈوڈی پُرواگندھی نے بتایا کہ ایک گزرنے والے ہیلی کاپٹر نے فیری کو الٹی ہوئی حالت میں دیکھا۔ حادثے کی وجہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔ امدادی حکام نے ابتدائی طور پر جہاز کے ڈوبنے کی اطلاع بھی دی تھی۔
حادثے میں بچ جانے والے 33 سالہ رِنٹو اراہاپ نے بتایا کہ جب جہاز ایک جانب جھکنا شروع ہوا تو بیشتر مسافر سو رہے تھے۔ ان کے مطابق کچھ دیر بعد انہیں دھات ٹوٹنے جیسی آواز سنائی دی اور مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اراہاپ کے مطابق دو میٹر سے زیادہ بلند لہروں کے باعث مسافر لائف جیکٹس حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی جانب سے کوئی باقاعدہ وارننگ نہیں دی گئی اور مسافروں نے خود ہی ایک دوسرے کو خبردار کرنا شروع کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ جہاز الٹنے سے قبل انہوں نے لائف جیکٹ پکڑ لی اور جہاز کی ریلنگ سے چمٹ گئے، بعدازاں جہاز کے نسبتاً بلند حصے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے مطابق وہ اور دیگر مسافر تقریباً چار گھنٹے تک پانی میں پھنسے رہے جس کے بعد انہیں ریسکیو کیا گیا۔
اراہاپ نے بتایا کہ وہ کچھ بھی محفوظ نہیں رکھ سکے، ان کا بٹوا، کپڑے اور اہم دستاویزات، حتیٰ کہ تعلیمی سند بھی سمندر میں بہہ گئی۔
بچائے گئے مسافروں کو دیگر کشتیوں کے ذریعے بنجرماسن منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کو اسٹریچرز اور وہیل چیئرز کے ذریعے ایمبولینسوں تک پہنچایا گیا۔ بندرگاہ پر طبی عملہ اور ایمبولینسیں بھی موجود رہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کو 2.5 میٹر تک بلند لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ سرچ آپریشن میں دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ بحریہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور فیری کمپنی کی کشتیاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔
حکام کے مطابق فیری کی آخری معلوم پوزیشن بنجرماسن سے تقریباً 150 کلومیٹر دور جاوا سمندر میں تھی۔
دوسری جانب لاپتا مسافروں کے اہل خانہ بنجرماسن بندرگاہ پر قائم کمانڈ سینٹر پہنچ گئے، جہاں ریسکیو کیے گئے افراد کے ناموں کی فہرست دیکھی جا رہی تھی اور لوگ اپنے پیاروں کی خیریت کے منتظر تھے۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق حادثے کے بعد مسافروں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ ایک خاتون پوتری نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر ہرمن سے فون پر بات کر رہی تھیں تاہم اچانک رابطہ ختم ہوگیا اور اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔
انڈونیشیا 17 ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک ہے اور اندرون ملک سفر کے لیے کشتیوں اور فیری سروسز پر بڑے پیمانے پر انحصار کیا جاتا ہے۔ سمندری سفر عموماً فضائی سفر کے مقابلے میں سستا اور زیادہ قابل رسائی ہوتا ہے۔
تاہم ملک میں سمندری حادثات بھی معمول ہیں، جن کی بڑی وجوہات میں خراب اور غیر یقینی موسم کے ساتھ ساتھ حفاظتی معیار پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونا شامل بتایا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی انڈونیشیا کی ایک فیری میں سمندر کے دوران آگ لگ گئی تھی، جس میں 5 افراد جاں بحق اور 41 لاپتا ہوگئے تھے۔


