شی جن پنگ کا گریٹر برکس تعاون مضبوط بنانے کے لیے اے آئی اور تجارت سمیت نئے اقدامات کا اعلان

0
2

نئی دہلی (MNN)؛ چینی صدر شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں متعدد نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے توسیع شدہ برکس گروپ کو عالمی جنوب کی ترقی اور باہمی تعاون کے لیے ایک مؤثر اور عملی پلیٹ فارم بنانے پر زور دیا ہے۔

نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ ’’گریٹر برکس انیشی ایٹو‘‘ کی کامیابی کے لیے عملی تعاون کی مضبوط بنیاد قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور مالیاتی شعبوں میں تعاون مزید بڑھائیں، صنعتی اور سپلائی چینز کے استحکام کو یقینی بنائیں اور ایک مربوط مارکیٹ کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین برکس اے آئی اوپن سورس زون کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کرے گا، جس کا مقصد بڑے لارج لینگویج ماڈلز، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور اوپن اے آئی ایکو سسٹم کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے برکس اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ کی تجویز بھی پیش کی جبکہ اعلان کیا کہ چین آئندہ سال برکس سروس ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دی جاسکے۔

برکس کا عالمی اثر و رسوخ مزید وسیع

برکس گروپ ابتدا میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا، تاہم اب اس میں ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے 10 شراکت دار ممالک بھی گروپ کے ساتھ منسلک ہیں، جس سے عالمی جنوب میں اس کی رسائی مزید وسیع ہوگئی ہے۔

چین اور روس اس توسیع شدہ گروپ کو بعض اوقات ’’گریٹر برکس‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی، عالمی مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد اور عالمی تجارت کے 25 فیصد سے زائد کی نمائندگی کرتا ہے۔

مودی نے کہا کہ برکس کی طاقت اس کے تنوع اور باہمی تعاون میں ہے اور گروپ کو جامع عالمی اقتصادی ترقی کے لیے مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے برکس کو ایک نئے، زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل میں اہم محرک قرار دیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی معیشتوں کی مسابقتی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے طریقے تلاش کریں۔

مودی نے یہ بھی کہا کہ برکس کے اندر تیار کیے جانے والے حل صرف رکن ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں عالمی جنوب کے دیگر ممالک کی ضروریات کے مطابق قابل رسائی اور قابل استعمال بنایا جانا چاہیے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر برکس کا زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ

برکس سربراہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اہم موضوع رہی۔

بھارت کی سفارتی کوششوں کے بعد برکس رہنماؤں نے ہفتے کے روز ایک مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس سے قبل مئی میں نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہیں کر سکے تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اجلاس کے موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد سے بھی اہم ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی، علاقائی استحکام، امن اور ترقی کے لیے کوششوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

برکس اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حوثی حملوں نے بھی خطے میں تنازع کو مزید وسیع کردیا ہے۔

شی جن پنگ اور مودی ملاقات، چین بھارت تعلقات میں محتاط پیش رفت

برکس اجلاس میں شی جن پنگ کی شرکت اس لیے بھی اہم رہی کہ یہ 2019 کے بعد ان کا پہلا بھارت کا دورہ ہے، جسے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان محتاط طور پر بہتر ہوتے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین اور بھارت کے تعلقات متنازع سرحد پر ایک مہلک فوجی جھڑپ کے بعد شدید متاثر ہوئے تھے، تاہم حالیہ عرصے میں پروازوں، ویزوں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کی بحالی کے ذریعے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے۔

مودی سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک میں اگرچہ متعدد معاملات میں اختلافات ہیں، تاہم وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازع کے منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے عزم کا اعادہ کیا۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اب بھی موجود ہے اور سرحدی تنازع، بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور اسٹریٹجک مسابقت باہمی تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔

شی جن پنگ نے مضبوط مالیاتی تعاون، مساوی اور پائیدار عالمی نظام اور کھلی و جامع اقتصادی عالمگیریت کے فروغ پر بھی زور دیا۔

دوسری جانب نئی دہلی میں درجنوں تبتی مظاہرین نے شی جن پنگ کے دورے کے خلاف احتجاج کیا۔ دلائی لامہ سمیت تبتی جلاوطن رہنما طویل عرصے سے چین کی تبت پالیسی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ دلائی لامہ 1959 میں چین کی کارروائی کے بعد بھارت منتقل ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں