اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا افغان دعویٰ مسترد، 13 طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ

0
19

اسلام آباد/راولپنڈی (MNN)؛ پاکستان نے افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے اسپن بولدک کے قریب پاکستانی سکیورٹی چوکی تباہ کرنے کے دعوے کو ’’جعلی اور من گھڑت‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان وزارت دفاع کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ حالیہ سرحدی جھڑپ کے دوران افغان فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزارت کے مطابق 24 اور 25 ستمبر کی درمیانی شب گلستان سیکٹر میں افغان جانب سے جارحیت کی کوشش ناکام بنائی گئی، جس کے دوران کم از کم 13 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے اور کارروائی کی کوشش کا مؤثر جواب دیا۔ وزارت نے واقعے سے متعلق بعض مناظر بھی جاری کیے اور کہا کہ ان میں سرحدی جھڑپ اور اس کے بعد کی کارروائی دیکھی جا سکتی ہے۔

گلستان سیکٹر میں تازہ جھڑپ پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ڈرون حملوں، سرحدی فائرنگ اور افغانستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کے باعث تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نے اس سے قبل افغانستان سے آنے والے ڈرونز کے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد افغانستان کے مختلف مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے تھے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کر رہے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور پاکستانی کارروائیوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر ’’کیلکولیٹڈ‘‘ فضائی حملے کیے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 28 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ افغان حکام اور بین الاقوامی ذرائع نے بعض حملوں میں شہری ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی۔

بلوچستان میں 33 دہشت گرد ہلاک

دریں اثنا، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان میں 21 ستمبر سے جاری مختلف انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران 33 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں ریاست کی جانب سے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان قرار دیے جانے والے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 24 ستمبر کو شابان کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے مزید دہشت گرد ٹھکانوں کو کلیئر کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں کیا گیا، جہاں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل خطرہ ختم ہونے تک جاری رہے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 21 ستمبر سے بلوچستان میں جاری کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل شابان، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

پاک افغان تعلقات میں کشیدگی برقرار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے دوران اسلام آباد مسلسل کابل سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات پر زور دیا۔

پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی آگاہ کر چکا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کی صورت میں وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق کابل کے ساتھ تعلقات میں بامعنی پیش رفت کا انحصار افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات پر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں تیار کی گئی ایک رپورٹ میں بھی افغانستان میں موجود مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابط اور پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کا ذکر کیا گیا ہے۔

تازہ پاک افغان سرحدی جھڑپ اور بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی، دہشت گردی اور ایک دوسرے پر الزامات کے باعث کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں