وزیراعظم شہباز شریف کا ہرمز اور باب المندب کھلے رکھنے پر زور، پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو اسے اعلانِ جنگ تصور کریں گے

0
17

نیویارک (MNN)؛ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، جبکہ خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے دریائی پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش ’’اعلانِ جنگ‘‘ تصور کی جائے گی۔

وزیراعظم نے جمعہ کو اپنے جامع خطاب میں پاک بھارت تنازع، سندھ طاس معاہدے، مسئلہ کشمیر، فلسطین، غزہ، افغانستان سے دہشت گردی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز اور باب المندب، سعودی عرب کی سلامتی، اسلاموفوبیا اور موسمیاتی تبدیلی سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

پاک بھارت تنازع اور سندھ طاس معاہدہ

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارتی حملے کے جواب میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی کارروائی کا جواب دیا۔

وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی مداخلت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد ملی اور جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ مکمل جنگ کے دہانے پر نہیں پہنچنا چاہیے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور عادلانہ حل ضروری ہے۔

سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے پانی کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ’’زندگی کی شہ رگ‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی ’’کوئی قانونی بنیاد نہیں‘‘، جبکہ پاکستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور ’’مؤثر، پابند اور مکمل طور پر نافذ‘‘ ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا:

’’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بننا چاہیے، دریا قوموں کو سیراب کریں، انہیں تقسیم نہ کریں۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان اعلانِ جنگ تصور کرے گا۔

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر کو بھی اپنے خطاب کا اہم حصہ بنایا اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی نسلوں کو قبضے، من مانی گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول تک سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا:

’’کشمیر کل بھی پاکستان کی شہ رگ تھا اور ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ رہے گا۔‘‘

پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل بھی واضح کیا تھا کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں جموں و کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو نمایاں طور پر اٹھائیں گے۔

فلسطین اور غزہ

وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کی مشکلات اور جانی نقصان کو اجاگر کیا۔

انہوں نے فلسطینی بچی ہند رجب اور آٹھ سالہ وفا عقیلہ کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دنیا کے دیگر بچوں کی طرح زندگی، مستقبل اور اپنے خواب پورے کرنے کا حق حاصل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہند رجب، وفا عقیلہ اور ہزاروں دیگر فلسطینیوں کی ہلاکتیں عالمی برادری کی خاموشی اور عدم اقدام پر ایک سوالیہ نشان رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں بھی وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا:

’’آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہیے، یہ اقوام کو آپس میں ملانے کا ذریعہ بنیں، محاذ آرائی کے چوک پوائنٹس نہ بنیں۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’’ان پانیوں کو جنگ کی تباہ کاریوں کے بجائے خوشحالی کا پیغام لے کر چلنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اس کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں آبی گزرگاہوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

24 ستمبر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں بھی وزیراعظم نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

سعودی عرب، حوثی حملے اور مکہ دفاعی معاہدہ

وزیراعظم نے سعودی عرب کے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ایسے سنگین جرم کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

انہوں نے کہا:

’’یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔ یہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم ہے، اور کچھ نہیں۔‘‘

افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال

وزیراعظم نے دہشت گردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نقصان اٹھایا جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، جسے پاکستان فتنۃ الخوارج قرار دیتا ہے، اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)، جسے پاکستان فتنۃ الہندوستان کہتا ہے، کی جانب سے پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اس امر کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

وزیراعظم نے افغان عوام، خصوصاً خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں بھی افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کی صورتحال زیر بحث آئی، جبکہ پاکستانی حکومت کے مطابق گوتریس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور عالمی امن کے لیے اس کے کردار کو سراہا۔

اسلاموفوبیا اور مذہبی منافرت

وزیراعظم نے دنیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے بھارت میں مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تشدد کے فروغ پر بھی تنقید کی اور مذہبی آزادی پر پابندیوں اور سہارنپور میں تاریخی مسجد منہدم کیے جانے کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا:

’’مذہبی منافرت کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

وزیراعظم نے اسلاموفوبیا اور ہر قسم کے مذہبی امتیاز کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات پر زور دیا۔

موسمیاتی تبدیلی

وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو بھی عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بار بار متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی فنانسنگ سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں، نقصانات اور تباہی کے ازالے کے لیے وسائل فراہم کریں اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی موافقت اور لچک پیدا کرنے میں مدد دیں۔

پاکستان کا جامع سفارتی مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب پاکستان کے علاقائی اور عالمی مؤقف کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل تھا، جس میں پاک بھارت تنازع، سندھ طاس معاہدہ، مسئلہ کشمیر، فلسطین و غزہ، مشرق وسطیٰ، آبنائے ہرمز و باب المندب، افغانستان سے دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور موسمیاتی تبدیلی نمایاں رہے۔

نیویارک میں وزیراعظم کی دیگر سفارتی سرگرمیوں میں بھی مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیرالجہتی نظام سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ گوتریس نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل بھی کہا تھا کہ وزیراعظم جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کے علاوہ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز اور اقوام متحدہ میں اصلاحات سمیت اہم عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

UPDATED

نیویارک (MNN)؛ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہیں عالمی معیشت کی اہم ترین گزرگاہیں قرار دیا، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں فلسطین اور جموں و کشمیر کے دیرینہ مسائل بھی عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیے۔

وزیراعظم نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، اس لیے انہیں کھلا رہنا چاہیے تاکہ یہ ممالک کو آپس میں جوڑنے اور عالمی تجارت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنیں، نہ کہ محاذ آرائی کے مراکز۔

انہوں نے کہا کہ ان اہم آبی گزرگاہوں سے جنگ کے خطرات کے بجائے خوشحالی کا پیغام آنا چاہیے۔

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

فلسطین: حق خود ارادیت اور ریاست کا مطالبہ

وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل واضح کیا تھا کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے اور فلسطینی عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری قبضے اور حق خود ارادیت سے محرومی کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران بھی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل بین الاقوامی اصولوں اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان نے فلسطین کے حوالے سے متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو دو ریاستی حل پر عملدرآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس سمیت فلسطین سے متعلق مختلف اجلاسوں میں شرکت کرنا تھی۔

جموں و کشمیر: حق خود ارادیت پر پاکستان کا مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کو بھی عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم کے خطاب سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا تھا کہ شہباز شریف اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو نمایاں طور پر اٹھائیں گے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق وزیراعظم مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے جاری قبضے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے محرومی کی جانب عالمی برادری کی توجہ دلائیں گے۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں پاکستان نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر زور

وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ سے متعلق سفارتی رابطوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر خصوصی زور دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ سمیت اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم قرار دیا۔

24 ستمبر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں بھی وزیراعظم نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی صورتحال اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے امور پر بھی گفتگو کی۔

عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف

وزیراعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب اور نیویارک میں سفارتی سرگرمیوں کے دوران پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل بھی پاکستان کے اہم نکات میں شامل رہے۔

پاکستان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر علاقائی امن، تنازعات کے سفارتی حل، عالمی قانون کے احترام اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا مجموعی پیغام مذاکرات، سفارت کاری، تنازعات کے پرامن حل اور عالمی تعاون پر مبنی رہا، جبکہ پاکستان نے فلسطین اور جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ مؤقف کو بھی اقوام متحدہ کے فورم پر پیش کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں