بیجنگ (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا کہ پاکستان اور چین کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکا اور اسرائیل سے متعلق تنازع کے دوران خطے میں امن کی بحالی کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بات بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران کہی۔ وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کے روز چار روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچے تھے اور اتوار کو ہانگژو سے بیجنگ پہنچے۔
وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں پاکستان اور چین کو مل کر امن کے قیام کے لیے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ امن بحال ہو اور معمولاتِ زندگی اور کاروبار دوبارہ معمول پر آئیں۔
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں تہران کے دورے سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت سے اہم رابطے کیے۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ امن کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان چین کے چار نکاتی امن منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے چین کی میزبانی کو سراہتے ہوئے شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے گیس دھماکے پر افسوس اور تعزیت کا اظہار بھی کیا، جس میں کم از کم بیاسی افراد جان سے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ دورہ ایک تاریخی موقع پر ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہے اور دونوں ملک اس ورثے کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وہ اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کریں گے اور پاک چین سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔
وزیراعظم کے دورۂ چین کا محور تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ہانگژو میں دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ وزیراعظم نے علی بابا گروپ سمیت بڑی چینی کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقات کی۔


