ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس: این سی سی آئی اے کی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف درخواست

0
11

اسلام آباد (ایم این این): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے 12 مئی کے اس حکم کو واپس لینے کی استدعا کی جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے۔

ایجنسی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی یہ ہدایت عدلیہ کی خودمختاری اور برابری کے اصول پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وکیل ہونے کی بنیاد پر دونوں کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔

ادھر سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 26 مئی کی مہلت گزر جانے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیر کو بھی کیس کی سماعت نہ ہو سکی اور استغاثہ کی جانب سے مہلت مانگنے پر سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

این سی سی آئی اے نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایسا کوئی غیر معمولی یا ہنگامی پہلو موجود نہیں تھا جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے میں مداخلت کرنا پڑتی۔

درخواست میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کرنا کوئی حتمی حکم نہیں تھا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنا قابل سماعت نہیں بنتا۔

ایجنسی نے مزید مؤقف اپنایا کہ اعلیٰ عدالتیں عموماً ابتدائی مرحلے میں زیر التوا مقدمات میں مداخلت سے گریز کرتی ہیں، سوائے ان معاملات کے جہاں سنگین قانونی بے ضابطگی یا فوری انصاف کی ضرورت ہو۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وہ مصروفیات کے باوجود خاص طور پر عدالت آئے تاکہ درخواستوں کی سماعت کر سکیں۔ انہوں نے استغاثہ سے عدم حاضری پر سوال کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی یاد دہانی بھی کرائی۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 4 جون جمعرات تک ملتوی کر دی۔

ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ جنوری میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔ دونوں کو متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت جنوری میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دونوں نے فروری میں اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائی کورٹ کو ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں