تہران (ایم این این): امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ہفتے کے روز مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی نگرانی کے مراکز پر حملوں کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں موجود امریکی اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے چار ایرانی ڈرون مار گرائے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ بعد ازاں امریکی مرکزی کمان نے اعلان کیا کہ گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار اور نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغے گئے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے تک پھیل گئے۔ کویتی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں ممالک ایک عبوری معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
سفارتی کوششوں کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والی عسکری کارروائیوں نے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی راہ مزید مشکل بنا دی ہے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ اسے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر مالیت کے تیل کے محصولات تک رسائی دی جائے، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے، اس کی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کے مؤقف کو تسلیم کیا جائے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔ جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل اور ڈرون تیار کرنے والے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں، تاہم ایران اب بھی اپنے کچھ میزائل ذخائر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت قومی وقار اور اپنے مؤقف کی وجہ سے فوری طور پر سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہو رہی، تاہم بالآخر اسے مذاکرات کی طرف آنا پڑے گا۔
جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حمل کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو بھوک کے مزید قریب دھکیل رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے تقریباً چوبیس ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی بحالی ضروری ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اسی دوران لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے خلاف دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں بیوفورٹ قلعے کے قریب کارروائی بھی شامل ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے بھی جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔
ایران نے ایک بار پھر حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔ تہران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کے لیے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ضروری ہے۔
مارچ کے آغاز سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس ہفتے لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکی حمایت یافتہ مجوزہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیلی انخلا کی کوئی ضمانت شامل نہیں اور حزب اللہ کو مذاکرات میں شریک بھی نہیں کیا گیا۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی افواج مقبوضہ لبنانی علاقوں سے نکل جائیں تو حزب اللہ بھی جنوبی لبنان سے انخلا پر آمادہ ہو سکتی ہے۔
امریکی ثالثی میں ہونے والی متعدد جنگ بندیوں کے باوجود لبنان، غزہ، شمالی اسرائیل اور خلیجی خطے کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں، جس سے پورے خطے میں وسیع تر تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔


