وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات، تہران دورے اور ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مشاورت

0
4

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں ان کے آئندہ دورۂ تہران، خطے کی صورتحال، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کو ایران کے دورے کے حوالے سے اہم رہنمائی اور ہدایات فراہم کیں۔ ملاقات کے دوران ملک میں امن و امان اور سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کا بھی جامع جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور علاقائی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو تہران میں ہونے والی ملاقاتوں اور سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں۔

محسن نقوی نے وزیراعظم کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری اور مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو مزید بہتر بنانے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سیکیورٹی کے انتظامات سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

اس سے ایک روز قبل محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی تھی جس میں پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف سفارتی ذرائع امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے تسلسل کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ محسن نقوی نے ایک غیر اعلانیہ دورے پر تہران کا سفر کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ان کی ملاقات تقریباً نوے منٹ تک جاری رہی جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

ایرانی قیادت نے ان ملاقاتوں میں خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جاری تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی اہمیت پر زور دیا۔

تازہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد سیکیورٹی صورتحال علاقائی اور عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں