اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جبکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے مختلف سیاسی و صوبائی مسائل پر تحفظات کا اظہار بھی دیکھنے میں آیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت سے تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے حکومتی اتحادی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایسے وقت میں بجٹ پیش کر رہا ہے جب دنیا پاکستان کی بات سن رہی ہے اور اس کے ساتھ دوستی کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے اس کا کریڈٹ مئی 2025 میں بھارت کے خلاف پاکستان کے مؤثر ردعمل کو دیا، جس سے ملک کی عالمی ساکھ اور دفاعی صلاحیتوں کو تقویت ملی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی شعبہ نہ صرف قومی سلامتی کا ضامن ہے بلکہ زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ ان کے مطابق متعدد ممالک پاکستان کے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس پیش رفت کا کریڈٹ دیا۔
وزیر خزانہ نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسلام آباد خطے میں پائیدار امن اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ان کوششوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے اور پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔
عالمی تیل کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق تنازع کے باعث عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں، تاہم حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو مکمل بوجھ منتقل ہونے سے بچایا۔
معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ چار برسوں کی بہترین کارکردگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے۔ اسی طرح پالیسی ریٹ میں بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل کے 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پہلے 11 ماہ میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی ہے جبکہ مالی خسارہ 2023 کے 7.8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی صورت میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ تہتر ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک محصولات 13 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان نے بجٹ پیش کیے جانے سے قبل سندھ کے پانی کے حصے میں اضافے کے مطالبے پر احتجاج کیا۔ ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی کی اور کہا کہ سندھ کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بجٹ اجلاس میں صرف علامتی شرکت کرے گی کیونکہ حکمران مسلم لیگ (ن) کے رویے پر انہیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی مینڈیٹ اور سیاسی جگہ کا احترام کیا جائے۔
شازیہ مری نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ و بلوچستان میں پانی کی قلت سمیت مختلف سیاسی اور انتظامی مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ادھر وفاقی کابینہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں بجٹ کی منظوری دے دی۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کی اور ملکی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے اس کے کردار کو سراہا۔


