جنیوا میں جی سیون سربراہی اجلاس سے قبل احتجاج پر تشدد، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

0
5

جنیوا (ایم این این): فرانس کے شہر ایویان لی بین میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہزاروں افراد کے احتجاج کے دوران پرتشدد جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔ ابتدا میں پرامن رہنے والا احتجاج بعد میں ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہوگیا، جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد نے "نو جی سیون” اتحاد کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ اس اتحاد میں ساٹھ سے زائد تنظیمیں، مزدور یونینیں اور مختلف سماجی و سیاسی گروہ شامل ہیں۔ مظاہرین میں ماحولیاتی کارکن، سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین، خواتین کے حقوق کے علمبردار اور فلسطین کے حامی شامل تھے۔

مظاہرہ ابتدا میں پُرامن انداز میں شہر کی سڑکوں پر جاری رہا، تاہم بعد ازاں نقاب پوش افراد کے کچھ گروہوں نے مرکزی جلوس سے الگ ہو کر سرمایہ داری اور عالمی طاقت کی علامت سمجھے جانے والے مقامات کو نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے ایک ٹیسلا گاڑی کو آگ لگا دی جبکہ اقوام متحدہ کے ٹیلی کمیونیکیشن دفتر اور دیگر تجارتی عمارتوں کے شیشے توڑ دیے۔ بعض بین الاقوامی مشاورتی اور آڈٹ کمپنیوں کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کی جانب سے پتھر، اینٹیں، بوتلیں اور آتش گیر اشیا پھینکے جانے کے بعد آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آنسو گیس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ بچوں اور خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جی سیون دنیا کے طاقتور ممالک کا ایسا پلیٹ فارم ہے جو معاشی عدم مساوات، جنگی پالیسیوں اور ماحولیاتی تباہی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امیر ممالک کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

احتجاج کے دوران مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے گئے جن پر سامراج مخالف نعرے، ماحولیاتی انصاف کے مطالبات اور عالمی برابری کی اپیلیں درج تھیں۔ بعض مظاہرین نے ایران سمیت مختلف بین الاقوامی تنازعات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر سوئس اور فرانسیسی حکام نے غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ جنیوا میں سیکڑوں دکانوں اور کاروباری مراکز نے اپنے شیشوں کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا تھا جبکہ سرحدی گزرگاہوں، شاہراہوں اور حساس مقامات پر ہزاروں پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد سرحدی راستے عارضی طور پر بند بھی کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت حفاظتی اقدامات 2003 کے جی ایٹ اجلاس کے تلخ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے، جب اسی خطے میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور کروڑوں ڈالر مالیت کا نقصان ہوا تھا۔ اتوار کے واقعات نے ایک بار پھر ان خدشات کو تازہ کر دیا ہے۔

فرانس میں پیر سے شروع ہونے والے تین روزہ جی سیون سربراہی اجلاس میں مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی صورتحال، عالمی معیشت، مصنوعی ذہانت کے ضوابط، موسمیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی سلامتی سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ بدامنی کے باوجود اجلاس اپنے شیڈول کے مطابق سخت سکیورٹی میں منعقد ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں