اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی، مہنگائی اور معاشی دباؤ کا اعتراف

0
5

اسلام آباد (ایم این این); اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز مالی سال 2026 کے آخری مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں حالیہ جغرافیائی حالات کے باعث کمی آئی ہے تاہم یہ اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے اثرات اب معاشی اشاریوں میں ظاہر ہو رہے ہیں، جس کے باعث اپریل اور مئی میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں پہنچ گئی جبکہ بنیادی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلند قیمتوں، کفایت شعاری کے اقدامات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کچھ سست روی دیکھی جا رہی ہے تاہم بیرونی کھاتوں پر دباؤ قابو میں ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ موجودہ مالیاتی پالیسی مہنگائی کو درمیانی مدت میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے موزوں ہے۔ مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو گزشتہ سال 3.2 فیصد تھی۔

بیان کے مطابق خدمات اور صنعتی شعبے نے ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا جبکہ زرعی شعبے نے بھی حصہ ڈالا۔ بڑے پیمانے کی صنعت میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا۔

کمیٹی نے صارفین اور کاروباری اعتماد میں معمولی بہتری جبکہ مہنگائی کی توقعات میں کمی کو نوٹ کیا۔ آئی ایم ایف پروگرامز کی کامیاب تکمیل کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

مالیاتی استحکام کے لیے اخراجات میں نظم و ضبط جاری ہے جبکہ ساختی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مہنگائی اپریل میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجوہات توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ اور غذائی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ چند ماہ مہنگائی دوہرے ہندسے میں رہ سکتی ہے تاہم بعد میں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں