اسلام آباد (ایم این این); پاکستان ستمبر میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالے گا جبکہ اگلے سال ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان کرے گا۔
ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونے پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ تنظیم خطے میں امن، سلامتی، استحکام، اقتصادی تعاون، رابطوں کے فروغ اور عوامی روابط میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017 کے بعد پاکستان کا کردار مبصر سے بڑھ کر فعال رکن کا ہو گیا ہے، جو کثیرالجہتی تعاون اور خطے کی صلاحیت پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی قیادت میں ایس سی او کے تحت ایک متحرک اور عملی ایجنڈا آگے بڑھایا جائے گا جس میں اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینا شامل ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ پاکستان 2025–26 کے لیے ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی بھی صدارت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان غربت کے خاتمے کے لیے ایس سی او ورکنگ گروپ کی مستقل صدارت بھی کر رہا ہے تاکہ خطے میں معیار زندگی بہتر بنایا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایس سی او ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کا ماڈل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر ایس سی او کے تحت دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل ترقی، توانائی منصوبوں اور مقامی کرنسی میں ادائیگی کے نظام کو خطے کی معیشت مضبوط بنانے کے اقدامات قرار دیا۔
ایس سی او 2001 میں سیکیورٹی تعاون کے لیے قائم ہوئی تھی اور اب یہ اقتصادی و ترقیاتی تعاون کا اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ اس کے 10 رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں جبکہ افغانستان اور منگولیا مبصر ممالک ہیں۔
رواں سال ایس سی او سربراہی اجلاس کرغزستان کے شہر بشکیک میں منعقد ہوگا۔


