پشاور (ایم این این): خیبرپختونخوا حکومت نے عوام، میڈیا اور صحافتی تنظیموں کی شدید تنقید کے بعد خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر کیا گیا، جنہوں نے حالیہ دنوں میں قانون کا ازسرنو جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ اپریل میں منظور کیے گئے اس قانون کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان اور ان کی شریک حیات کو بلیو پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس، حفاظتی حراست سے استثنیٰ اور کسی رکن کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت جیسی اضافی مراعات دی گئی تھیں، جس پر عوامی سطح پر شدید اعتراضات سامنے آئے تھے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر حکومت نے قانون میں شامل تمام متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ قانون کی تمام متنازع دفعات ختم کر دی جائیں گی۔
وزیر اطلاعات کے مطابق نئی ترامیم خیبرپختونخوا (اختیارات، مراعات اور استثنیٰ) ایکٹ 1988 کے مطابق کی جائیں گی تاکہ قانون کو اس کی سابقہ قانونی حیثیت کے مطابق بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیر کے روز پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں انہیں مجوزہ ترامیم اور حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔
شفیع جان نے کہا کہ موجودہ صوبائی اسمبلی عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی نمائندہ ہے اور حکومت ایسا کوئی قانون نہیں بنائے گی جو عوامی توقعات اور مفادات کے خلاف ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت صحافی برادری اور عوام کی تمام جائز تشویشات کو سنے گی اور ان کا مناسب حل نکالے گی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ملک بھر میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کے لیے یکساں قومی پالیسی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کا مشترکہ اجلاس فوری طور پر طلب کیا جائے تاکہ ارکان اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں اور سرکاری سہولتوں سے متعلق ایک متفقہ قومی قانون مرتب کیا جا سکے۔
گورنر کنڈی کا کہنا تھا کہ جب عوام کو کفایت شعاری اختیار کرنے کا کہا جا رہا ہو تو کسی بھی صوبے کو اپنے منتخب نمائندوں کے لیے غیرمعمولی مراعات دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں، سیکیورٹی، سرکاری پاسپورٹ، الاؤنسز اور دیگر تمام مراعات پورے ملک میں یکساں ہونی چاہئیں تاکہ شفافیت، مساوات اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک متحدہ قومی فریم ورک ہی احتساب، انصاف اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
اگرچہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے 6 مئی کو آئینی تقاضوں کے تحت اس بل کی منظوری دی تھی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت بھی انہوں نے قانون کی بعض شقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام معاشی مشکلات اور کفایت شعاری کا سامنا کر رہے ہیں، منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافہ کسی صورت مناسب نہیں۔
گورنر نے بتایا کہ انہوں نے بل کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم کے 14 نکاتی کفایت شعاری پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کی سفارش بھی کی تھی، جس میں سرکاری اخراجات میں کمی، ایندھن کی بچت اور غیر ضروری مراعات کے خاتمے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی نظم و ضبط، عوامی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور قومی خزانے کا تحفظ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے کیونکہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں، نہ کہ اقتدار میں موجود افراد کی اضافی مراعات کے لیے۔
مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے متنازع قانون میں ترمیم کا فیصلہ عوامی دباؤ، میڈیا کی تنقید اور شفاف طرز حکمرانی کے مطالبات کا براہ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔


