بیجنگ (ایم این این): چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے سمندر میں نصب پلیٹ فارم پر جال کے ذریعے راکٹ کے بوسٹر کی کامیاب بازیابی کا تجربہ مکمل کر لیا ہے، جسے قابلِ دوبارہ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق لانگ مارچ 10 بی (Long March 10B) راکٹ نے جمعہ کے روز جنوبی چین میں واقع ہائنان کمرشل اسپیس لانچ سائٹ سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 15 منٹ (پاکستانی وقت صبح 9 بج کر 15 منٹ) پر کامیاب پرواز بھری۔
راکٹ کے اوپری حصے سے علیحدگی کے تقریباً چھ منٹ بعد اس کا بوسٹر عمودی انداز میں واپس آیا اور سمندر میں قائم ایک خصوصی پلیٹ فارم پر نصب جال کے ذریعے کامیابی سے پکڑ لیا گیا۔
اس مشن کے دوران راکٹ نے ایک سیٹلائٹ کو بھی کامیابی سے پہلے سے مقررہ مدار میں پہنچایا، جبکہ بوسٹر کی کامیاب بازیابی نے چین کو پہلی مرتبہ مدار میں جانے والے راکٹ کی واپسی ممکن بنانے والے ممالک کی صف میں شامل کر دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی چین کو قابلِ دوبارہ استعمال راکٹوں کی تیاری کے ہدف کے مزید قریب لے گئی ہے، جس سے مستقبل میں خلائی مشنز کی لاگت میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
کامیاب تجربے کی خبر سامنے آنے کے بعد چین کی کئی خلائی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ چائنا اسپیس سیٹ اور چائنا سیٹلائٹ کمیونیکیشنز کے شیئرز یومیہ مقررہ حد تک بڑھ گئے۔
لانگ مارچ 10 بی راکٹ کو چین کی سرکاری خلائی کمپنی چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی (CALT) نے تیار کیا ہے اور اس کا موازنہ اکثر اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ سے کیا جاتا ہے۔ یہ راکٹ کم زمینی مدار میں 16 میٹرک ٹن سے زائد وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فالکن 9 کے برعکس، جو اپنے لینڈنگ پیڈ یا ڈرون شپ پر خودکار لینڈنگ ٹانگوں کے ذریعے اترتا ہے، لانگ مارچ 10 بی میں چار خصوصی "لینڈنگ ہکس” نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے بوسٹر کو سمندر میں موجود جال کے ذریعے محفوظ طریقے سے پکڑا جاتا ہے۔
سی اے ایل ٹی کے ماہر چن مویے کے مطابق جال پر مبنی بازیابی کا نظام راکٹ کی ساخت کو نسبتاً سادہ بناتا ہے، اس کا وزن کم کرتا ہے، زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور لینڈنگ کے دوران معمولی انحراف کی صورت میں بھی بوسٹر کو محفوظ طریقے سے پکڑنے کی گنجائش بڑھا دیتا ہے۔
قابلِ دوبارہ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی اس وقت عالمی خلائی صنعت میں شدید مقابلے کا میدان بن چکی ہے۔ اسپیس ایکس نے دسمبر 2015 میں پہلی مرتبہ فالکن 9 راکٹ کے بوسٹر کی کامیاب لینڈنگ کر کے خلائی صنعت میں انقلاب برپا کیا، جبکہ بلیو اوریجن نے نومبر 2025 میں اپنے نیو گلین راکٹ کے ذریعے اسی نوعیت کی کامیابی حاصل کی۔
آج اسپیس ایکس سالانہ تقریباً 150 فالکن 9 مشنز انجام دیتا ہے اور ایک ہی بوسٹر کو متعدد مرتبہ استعمال کر کے لانچنگ لاگت میں نمایاں کمی لا چکا ہے۔
چین گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قابلِ دوبارہ استعمال راکٹوں کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ ابتدائی کم بلندی کے تجربات سے آغاز کرنے کے بعد اب وہ مدار میں جانے والے راکٹوں کی کامیاب بازیابی تک پہنچ چکا ہے، جو مستقبل میں اس کے تجارتی سیٹلائٹ پروگرام اور دیگر خلائی منصوبوں کے لیے نہایت اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
چین کی نجی خلائی کمپنیاں بھی عالمی مسابقت کے پیش نظر اپنی قابلِ دوبارہ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی دے رہی ہیں۔ حکومت نے ایسے منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے ابتدائی عوامی شیئرز (IPO) کے قواعد میں نرمی بھی کی ہے تاکہ انہیں سرمایہ کاری کے حصول میں سہولت مل سکے۔
گزشتہ برس لینڈ اسپیس اور سرکاری ادارے چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن (CASC) کی جانب سے کیے گئے تجربات آخری مرحلے میں بوسٹر کی کامیاب بازیابی میں ناکام رہے تھے۔
لانگ مارچ 10 بی، چین کے لانگ مارچ 10 پروگرام کا حصہ ہے، جسے 2030 سے قبل مجوزہ انسانی قمری مشن کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تجربے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے قمری پروگرام اور دیگر خلائی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
چینی سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے مطابق کامیابی سے بازیاب ہونے والے بوسٹر کو دوبارہ تیار کر کے رواں سال کے اختتام سے قبل ایک اور مشن میں استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو چین کے قابلِ دوبارہ استعمال خلائی نظام کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔


