بلوچستان میں بڑے انتظامی اصلاحات، کوئٹہ مشرقی اور مغربی اضلاع میں تقسیم، نئے ڈویژن اور اضلاع قائم

0
25

کوئٹہ (ایم این این): حکومت بلوچستان نے صوبے میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے نئے ڈویژن، اضلاع، تحصیلیں اور سب ڈویژن قائم کر دیے ہیں، جبکہ متعدد موجودہ انتظامی حدود میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت کوئٹہ ضلع کو مشرقی کوئٹہ اور مغربی کوئٹہ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

محکمہ ریونیو بلوچستان کی جانب سے 8 جولائی کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں ڈویژنز کی تعداد بڑھ کر 11 جبکہ اضلاع کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔

نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق مشرقی کوئٹہ میں صدر، سٹی اور سریاب سب ڈویژن شامل ہوں گے، جبکہ مغربی کوئٹہ میں کچلاک، نئی قائم کی گئی بریوری اور پنجپائی سب ڈویژن شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ بریوری تحصیل بھی قائم کر دی گئی ہے۔

ایک اہم فیصلے کے تحت مستونگ ضلع کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کوئٹہ ڈویژن تین اضلاع پر مشتمل ہو گیا ہے۔

اس فیصلے پر سراوان کے قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے اعتراض کیا ہے۔ سینئر سیاست دان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے مؤقف اختیار کیا کہ مستونگ کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنا 1948ء میں خان آف قلات اور قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے الحاق کے معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

انتظامی اصلاحات کے تحت قلات ڈویژن کو ختم کرکے اس کی جگہ خضدار ڈویژن اور لسبیلہ ڈویژن قائم کیے گئے ہیں۔ خضدار ڈویژن میں خضدار، قلات، سوراب اور نیا ضلع وڈھ شامل ہوں گے، جبکہ لسبیلہ ڈویژن میں لسبیلہ، حب اور آواران اضلاع شامل کیے گئے ہیں۔

ضلع وڈھ کو خضدار سے الگ کرکے وڈھ، اورناچ اور نال سب ڈویژن پر مشتمل نیا ضلع بنایا گیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ سال تبدیل کیا گیا نام شہید سکندر آباد دوبارہ ضلع سوراب بحال کر دیا ہے، جبکہ زہری سب ڈویژن اور تحصیل کو خضدار سے الگ کرکے سوراب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

خضدار ضلع میں باغبانہ اور مولا کے نئے سب ڈویژن قائم کیے گئے ہیں، زیدی تحصیل بنائی گئی ہے جبکہ کرخ کو سب تحصیل سے ترقی دے کر مکمل تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ سَرونا سب تحصیل ختم کر دی گئی ہے اور اس کے بعض علاقے لسبیلہ کے کنراج سب ڈویژن میں شامل کیے گئے ہیں۔

حکومت نے انگریزی املا میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے Makran کو Makuran اور Sibi کو Sevi لکھنے کی منظوری دی ہے۔

اسی طرح اپر ڈیرہ بگٹی کا نام تبدیل کرکے شمالی ڈیرہ بگٹی جبکہ لوئر ڈیرہ بگٹی کو جنوبی ڈیرہ بگٹی کر دیا گیا ہے۔

اصلاحات کے تحت گوادر ضلع میں اورماڑہ اور جیوانی کے نئے سب ڈویژن قائم کیے گئے ہیں، جعفرآباد میں خانپور تحصیل جبکہ صحبت پور میں جیا خان کو نئی تحصیل اور سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا ہے۔

ژوب ڈویژن میں مرغہ کبزئی کو ژوب ضلع کا نیا سب ڈویژن جبکہ مانی خواہ کو شیرانی ضلع کا نیا سب ڈویژن بنایا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کچھی ضلع کو نصیر آباد ڈویژن سے الگ کرکے سیوی ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ زیارت اور ہرنائی اضلاع کو سیوی سے نکال کر لورالائی ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے۔

پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن اضلاع کی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم توبہ کاکڑی کو بارشور ضلع میں نئی تحصیل اور سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ بارشور سب تحصیل کو مکمل تحصیل بنا دیا گیا ہے۔

دیگر اصلاحات کے تحت چاغی ضلع میں چاغی تحصیل کو سب ڈویژن، واشک میں ناگ سب ڈویژن، کوہلو میں زرکوانہ سب ڈویژن، جندران تحصیل اور ہوسارہی سب تحصیل جبکہ بارکھان ضلع میں رارا شام سب ڈویژن قائم کیا گیا ہے۔

حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد صوبے میں بہتر انتظامی نظام، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں