اسلام آباد (ایم این این): پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کر کے ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
بلال بن ثاقب نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ملاقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق اس بنیادی مقصد پر متفق ہیں کہ پاکستانی عوام کو فراڈ، مالی استحصال اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے وابستہ خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں پر مبنی ٹوکنائزڈ نظام مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ہیں، اس لیے ہر شعبے کا الگ تکنیکی اور شرعی جائزہ لینا ضروری ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے جدید تکنیکی تجزیے اور جامع شرعی تحقیق کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 10 جون کو دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے جاری کردہ ایک فتویٰ، جس پر مفتی تقی عثمانی سمیت سات ممتاز علماء کے دستخط موجود ہیں، میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے اشیاء کی خرید و فروخت کو شرعاً ناجائز قرار دیا گیا تھا۔
فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی شریعت کی نظر میں "مال” کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ یہ محض ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں درج فرضی اعداد و شمار ہیں، خواہ وہ یو ایس ڈی ٹی (ٹیتر) ہو یا کوئی دوسری کرپٹو کرنسی۔
فتویٰ کے مطابق چونکہ کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے مال نہیں، اس لیے اس کے ذریعے خریدی گئی اشیاء یا خدمات پر شرعی ملکیت قائم نہیں ہوتی۔ اسی بنیاد پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدے گئے تعلیمی کورسز اور دیگر خدمات کو بھی شرعاً درست قرار نہیں دیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی ممتاز علماء، ریگولیٹرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہے گی تاکہ پاکستان میں ایسا ریگولیٹری نظام تشکیل دیا جا سکے جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کو بھی پورا کرے۔
بلال بن ثاقب اس وقت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین ہیں، جو ایک خودمختار وفاقی ادارہ ہے۔ اس کے بورڈ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چیئرمین اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین بھی شامل ہیں۔
ادارے کا مقصد ورچوئل اثاثوں کی نگرانی، غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام، صارفین کا تحفظ، فن ٹیک اور ترسیلاتِ زر کے شعبے میں جدت کو فروغ دینا، اور شریعت سے ہم آہنگ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے اپریل میں ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دی، جس کے بعد لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی گئی۔
بلال بن ثاقب اس سے قبل یہ بھی بتا چکے ہیں کہ تقریباً چار کروڑ پاکستانی مختلف انداز میں ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ ہیں، جن کی بڑی تعداد غیر رسمی پلیٹ فارمز استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر ریگولیٹری نظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے دسمبر 2025 میں پاکستان کا پہلا اسٹیبل کوائن متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اسٹیبل کوائن ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہوتی ہے جس کی قدر امریکی ڈالر جیسی روایتی کرنسی سے منسلک ہوتی ہے، جس سے اس کی قیمت عام کرپٹو کرنسیوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہتی ہے۔


