لوئر دیر میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران پانچ پولیس اہلکار شہید، بنوں میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملہ

0
57

بنوں/لوئر دیر (ایم این این): خیبرپختونخوا میں بدھ کے روز دہشت گردی کے دو الگ الگ واقعات میں پانچ پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تیز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق لوئر دیر کے علاقے خانپور حیدر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ابتدائی جھڑپ میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ کارروائی سے واپسی پر پولیس پارٹی پر دوبارہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 15 اہلکار زخمی ہوگئے۔

زخمی اہلکاروں میں مفتاح الدین، نصیب خان، ریحان اللہ، سی ٹی ڈی کے آصف خان (جنہیں سینے پر گولی لگنے کے باعث پشاور منتقل کیا گیا)، حبیب الحسن، امیر محمد، بخت بیدار، عزت اللہ، محبوب علی، شہاب، رازی محمدی، جواد، نواب، لقمان بہادر اور محمد ندیم شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے حملے کے دوران پولیس کی پانچ گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے دہشت گردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ رپورٹ فائل ہونے تک جاری رہا۔

زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پشاور، سوات اور دیر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ فائرنگ کے باعث متعدد مقامی شہری محصور ہوگئے جبکہ کئی خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوگئے۔

بنوں میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملہ

دوسری جانب بنوں کے میر یان پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، زخمی ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کیپٹن (ر) محمد فرقان بلال نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرانے کی کوشش کی، جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے بعد دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان کافی دیر تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ اضافی پولیس نفری اور پولیس امن کمیٹی کے ارکان بھی موقع پر پہنچ گئے، جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت اور قریبی رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی سے قبل پولیس اسٹیشن جانے والے راستے پر واقع پہلے سے متاثرہ پل کو بھی دھماکے سے اڑا دیا تاکہ کمک اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔

مقامی شہریوں نے زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

خیبرپختونخوا، خصوصاً بنوں، حالیہ برسوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ رواں سال اپریل میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش کار بم حملے میں پانچ شہری جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔

سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خاتمے اور علاقے میں امن کی بحالی کے لیے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں