اسلام آباد (ایم این این): سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے زیر التوا مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے اختیار سے متعلق اہم آئینی معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے یہ طے کرنا ہے کہ آیا یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس برقرار ہے یا 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کو منتقل ہوں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ مختصر مدت میں فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور نیب قوانین میں کی گئی ترامیم کے بعد زیر التوا نیب مقدمات میں اپیلوں کے ساتھ ساتھ ضمانت کی درخواستوں کی سماعت بھی وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
زیرِ حراست ملزم عامر محمود کی جانب سے سینئر وکیل عباد الرحمن لودھی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ سماعت ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں فوجداری ضابطہ (CrPC) کی دفعہ 497 کے تحت آتی ہیں، جو ضمانت سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 426 سزا یافتہ ملزم کی سزا معطل کرنے سے متعلق ہے، اس لیے دونوں معاملات الگ نوعیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب ترمیمی قانون کے ذریعے شامل کی گئی دفعہ 32-اے صرف ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل کا حق دیتی ہے اور اس کا اطلاق ضمانت کی درخواستوں پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ضمانت کے معاملات بدستور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت پارلیمنٹ کی نیت کا جائزہ نہیں لے رہی بلکہ یہ تعین کر رہی ہے کہ قانون کے تحت متعلقہ فورم کون سا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سپریم کورٹ نے اپنا اختیار ترک نہیں کیا، تاہم 27ویں آئینی ترمیم میں اپیلوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی گئی ہے۔”
جسٹس مظہر نے سوال اٹھایا کہ اگر نیب قانون کے تحت اپیلوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے تو سپریم کورٹ ضمانت کے معاملات میں اپیلٹ فورم کیسے بن سکتی ہے۔
اس پر وکیل عباد الرحمن لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کو اپنا آئینی اختیار برقرار رکھنا چاہیے اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت بدستور اسی عدالت میں ہونی چاہیے، جبکہ ہائی کورٹ کے حتمی فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جائے تو کیا سپریم کورٹ خود اپیلٹ عدالت بن جائے گی۔
وکیل نے جواب دیا کہ نیب ترمیمی قانون میں صرف "اپیل” کا ذکر ہے، "ضمانت” کا نہیں، اس لیے وفاقی آئینی عدالت کو صرف اپیلوں کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے آئین کے آرٹیکل 199 کا حوالہ دیتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی مثال موجود ہے جہاں سپریم کورٹ نے اس صورت میں بھی سماعت کی ہو جب وہ اپیل کا مقررہ فورم نہ ہو۔
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں بھی سپریم کورٹ متعدد ضمانت مقدمات میں کیس کے میرٹس کا تفصیلی جائزہ لے کر فیصلے دے چکی ہے، جن میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جس سے یہ واضح ہوگا کہ نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس رہے گا یا وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوگا۔


