تہران/دوحہ/اسلام آباد (ایم این این): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے امریکی بحری افواج کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فورسز ایران کی ممکنہ فوجی کارروائی کے "زیرو آور” کے قریب پہنچ چکی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بحرین، کویت، قطر اور اردن پر ایران کے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں آئی آر جی سی نیوی نے کہا کہ ایرانی بحری یونٹس خطے میں امریکی افواج کی تمام نقل و حرکت اور عسکری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ "امریکی افواج ہر گزرتے لمحے ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی سینٹکام کے بحری یونٹس کے خلاف کارروائی کے زیرو آور کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ انتظار کریں اور دیکھیں۔”
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بحرین، کویت، قطر اور اردن پر ایران کے تازہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ان ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
یو اے ای وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بحرین، کویت، قطر اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امارات ان ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے ایران کی چابہار بندرگاہ پر قائم ایک نگرانی ٹاور کو تباہ کر دیا ہے، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسے کئی برسوں سے آئی آر جی سی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
سینٹکام کے مطابق اس کارروائی سے ایران کی تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے اور عالمی بحری آمدورفت کے تحفظ میں مدد ملے گی، جبکہ ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رہے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائی حملوں میں جنوبی ایران کے متعدد فوجی اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں اردن، کویت، بحرین اور قطر میں مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
کویتی فوج نے تصدیق کی کہ ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں فوجی تنصیبات اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے متعدد فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ اعلیٰ عسکری حکام نے اسپتال جا کر زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کی۔
آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے اعلان کیا کہ ایران کی فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر نہیں آ جاتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پورے جغرافیے کو ایک متحد دفاعی محاذ سمجھتا ہے اور دشمن کے خلاف مؤثر اور ہدفی حملے مسلسل جاری رکھے جائیں گے۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل امریکی خارجہ پالیسی پر غیر معمولی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے جسے جیتنا ممکن نہیں، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے استعمال کر کے اپنے ناقدین کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
خطے میں جاری یہ تازہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی تجارت کے مستقبل پر بھی نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔


