ایران نے امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا، واشنگٹن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

0
10

تہران/اسلام آباد (ایم این این): ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر اپنے وعدوں پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واشنگٹن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کے بعد تہران نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے تمام بنیادی نکات پر عملدرآمد روک دیا، جس کے بعد ایران نے بھی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو معطل کر دیا، لہٰذا ایران نے بھی اپنے وعدوں پر عملدرآمد روک دیا ہے اور اس وقت ہماری اولین ترجیح اپنے ملک کا دفاع اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔”

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت 17 جون 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پائی تھی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔

اس معاہدے کے تحت 60 روزہ اعتماد سازی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی مذاکرات کا فریم ورک وضع کیا گیا تھا، جسے پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں کی بحالی، آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات اور دیگر علاقائی پیش رفت کے باعث معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا کے اقدامات نے مفاہمتی یادداشت کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا اور واشنگٹن نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی پاسداری نہیں کی۔

اگرچہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس نے معاہدے سے مکمل دستبرداری کا اعلان نہیں کیا، جس سے مستقبل میں سفارتی رابطوں کا امکان برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ فیصلہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات بحال کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ایران کے اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں