لاہور/راولپنڈی (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے معرکۂ حق (آپریشن بنیان المرصوص) اور پاک افواج سے متعلق متنازع بیان پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ان کے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔
ایک انٹرویو میں نورین نیازی نے دعویٰ کیا کہ معرکۂ حق پاکستان کی افواج اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارت نے اسرائیل کے مفادات کے باعث پاکستان کے خلاف کارروائی سے گریز کیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام عمل پاک فوج کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کیا گیا۔ ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
نورین نیازی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اسے غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور قومی مفادات کے خلاف قرار دیا۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نورین نیازی کے الفاظ ان کے بھائی اور پی ٹی آئی بانی کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہر کامیابی پر اس خاندان کو تکلیف ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کیا جبکہ پاک افواج اور شاہینوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں، جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔
عظمیٰ بخاری نے نورین نیازی کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق ریمارکس کو بھی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دشمن کے بیانیے کو تقویت دے سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین نے بھی نورین نیازی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور دفاع جیسے حساس معاملات پر غیر مصدقہ دعوے دشمن عناصر کے پروپیگنڈے کو تقویت دے سکتے ہیں اور ایسے بیانات بھارتی میڈیا کے لیے مواد بن سکتے ہیں۔
اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جہاں مختلف جماعتیں اور مبصرین اس بیان اور اس پر سامنے آنے والے ردعمل پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔


