وانا/ڈیرہ اسماعیل خان (ایم این این): سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے ایک بڑے خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) نے ایک علیحدہ کارروائی کے دوران مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔
ریاستی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو تباہ کر دیا جو مبینہ طور پر خودکش حملے کے لیے استعمال کی جانی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بروقت کارروائی سے وانا اور گردونواح میں ایک بڑی تباہی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روک لیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے وانا اور قریبی علاقوں کے عوام کو ایک بڑے سانحے سے بچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے سے چند لمحے قبل بارودی مواد سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل کو تباہ کر دیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل بھی وانا کے کاری کوٹ علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے فوجی چوکی پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اس سے قبل رواں سال مئی میں بھی جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک بازار کے قریب ایک خودکش حملے کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی، تاہم اس واقعے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔
جنوبی وزیرستان اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں کو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق جون کے دوران ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دہشت گرد حملوں میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں مئی کے 22 حملوں کے مقابلے میں جون میں 17 حملے رپورٹ ہوئے۔
تاہم خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جہاں جون میں 37 حملے رپورٹ ہوئے جبکہ مئی میں یہ تعداد 32 تھی۔
دوسری جانب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کورائی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشت گرد خالد عرف کمانڈر مارا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق خالد متعدد دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں 17 مارچ 2025 کو شہید ہونے والے سی ٹی ڈی کانسٹیبل محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل تھی۔
محکمے کے مطابق تکنیکی نگرانی کے ذریعے دہشت گرد کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی کی اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکٹکس (SWAT) ٹیم نے ٹانک-ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر کارروائی کی۔
حکام کے مطابق دہشت گرد کو کئی بار ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی، تاہم اس نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں وہ مارا گیا۔
سی ٹی ڈی نے بتایا کہ خالد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ذاکر کوچی کارواں گروپ سے وابستہ تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے مسلسل اپنی شناخت، حلیہ اور رہائش تبدیل کرتا رہتا تھا۔
کارروائی کے دوران دہشت گرد کے قبضے سے ایک 9 ایم ایم پستول، ایک دستی بم اور ایک اسمارٹ فون برآمد کیا گیا، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور لاجسٹک نیٹ ورک کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔


