مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انتخابات اب ایک ہی روز کے بجائے تین مرحلوں میں کرائے جائیں گے، جبکہ انتخابی عمل 10 اگست کو مکمل ہوگا۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ پاکستان آرمی کے اہلکاروں کی مناسب تعداد ہر مرحلے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے سکے اور آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
نیا انتخابی شیڈول
27 جولائی: میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ
2 اگست: مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور 12 مہاجر نشستوں پر پولنگ
10 اگست: پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ مرحلہ وار پولنگ کے ذریعے فوجی دستے ایک ڈویژن سے دوسرے ڈویژن منتقل ہو سکیں گے، جس سے ہر مرحلے میں مؤثر سکیورٹی فراہم کی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں نے فوج کی تعیناتی پر زور دیا تھا اور اسی اتفاق رائے کی بنیاد پر انتخابی شیڈول میں ترمیم کی گئی۔
جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے واضح کیا کہ اگرچہ میرپور ڈویژن کے انتخابی سامان کی ترسیل کے باعث باقاعدہ اجلاس ممکن نہ تھا، تاہم تمام سیاسی جماعتوں سے ٹیلیفون پر مشاورت کی گئی اور سب نے مرحلہ وار انتخابات کی حمایت کی۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مختلف مراحل میں پولنگ سے انتخابی نتائج متاثر ہوں گے، اور کہا کہ ووٹرز اپنی جماعتوں سے وابستہ رہتے ہیں، اس لیے بعد میں ہونے والی پولنگ پر پہلے مرحلے کے نتائج کا کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پولنگ ختم ہونے پر پریذائیڈنگ افسران پولنگ ایجنٹس کو فارم 24 فراہم کریں گے، جس سے غیر سرکاری نتائج اسی روز دستیاب ہوں گے، جبکہ کامیاب امیدواروں کے سرکاری نوٹیفکیشن مرحلہ وار یا تمام نتائج مکمل ہونے کے بعد جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پونچھ ڈویژن میں حالیہ احتجاج اور کشیدگی کے باوجود واضح کیا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات ہر صورت منعقد کیے جائیں گے اور کسی بھی علاقے کو انتخابی عمل سے باہر نہیں رکھا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ملکی اور بین الاقوامی انتخابی مبصرین کو انتخابات کے مشاہدے کی دعوت بھی دے دی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ انتخابی شیڈول میں ترمیم جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کی دفعہ 37 کے تحت کی گئی ہے، جو الیکشن کمیشن کو ضرورت پڑنے پر انتخابی پروگرام تبدیل کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
انتخابی مہم میں تیزی
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی انتخابی مہم مزید تیز کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین اس انتخاب کو بنیادی طور پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلہ قرار دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ انتخابی اتحاد میں میدان میں ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے خلاف کارروائیوں کے باعث بعض حلقوں میں عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کیلئے مختص 12 مخصوص نشستوں کا معاملہ بھی انتخابی مہم کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ اس معاملے پر حالیہ ہفتوں میں شدید احتجاج اور جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستوں کا معاملہ آئینی نوعیت کا ہے، جس کا فیصلہ نئی منتخب ہونے والی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کرے گی۔


