دو نادرا افسران سمیت چار گرفتار , اہم ریکارڈ برآمد، مزید گرفتاریوں کا امکان

0
4

کراچی (ایم این این): فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بدھ کو کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے نادرا کے دو افسران سمیت چار افراد کو افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے اور غیر قانونی رجسٹریشن میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امام الحق، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد، نادرا ملازم جنید احمد اور نجی ایجنٹ محمد عمر شاہ شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک ایسے مبینہ گروہ کے خلاف کی گئی جو افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات تیار کرنے، ریکارڈ میں ردوبدل کرنے اور غیر قانونی اندراجات میں ملوث تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران اہم سرکاری ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستاویزات بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان شناختی دستاویزات کے اجراء میں جعلسازی، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور افغان شہریوں کی غیر قانونی رجسٹریشن میں ملوث تھے۔

ایف آئی اے نے مزید کہا کہ ابتدائی شواہد سے اس نیٹ ورک کے دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کا بھی اشارہ ملا ہے، جس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اس گروہ کے تمام سہولت کاروں، مرکزی کرداروں اور سرغنہ افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ آئندہ چند روز میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گرفتار نادرا افسر فیاض احمد کے اہل خانہ نے گزشتہ روز ان کی مبینہ گمشدگی پر پولیس سے رجوع کرتے ہوئے ان کی بازیابی کی درخواست دی تھی۔

اس سے قبل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے بھی فیاض احمد کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جبکہ 2021 میں طالبان حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے۔

جون میں وفاقی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ان کی وطن واپسی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

یہ گرفتاریاں اسی ملک گیر مہم کا حصہ ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ایف آئی اے نے چکوال میں بھی نادرا کے تین اہلکاروں کو ایک افغان قیدی کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جبکہ اپریل میں کراچی میں بھی ایک نادرا اہلکار کو افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں