راہول گاندھی، پرینکا گاندھی نئی دہلی میں احتجاج کے دوران گرفتار . بھارت بھر میں طلبہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی

0
4

نئی دہلی (ایم این این): بھارت میں کانگریس رہنما اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، ان کی بہن اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا جبکہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو منگل کے روز نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کے دوران دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کر رہے تھے، جہاں پولیس نے احتجاج روک کر متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔

حراست سے قبل سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے طلبہ کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت نہ تو واقعے کی ذمہ داری قبول کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے پر آمادہ ہے۔

گرفتاری کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز میں راہول گاندھی کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لینے کی مزاحمت کرتے دیکھا گیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق اس دوران انہیں معمولی چوٹیں بھی آئیں۔

یہ صورتحال پیر کو نئی دہلی میں ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد پیدا ہوئی، جہاں ہزاروں طلبہ اور شہریوں نے امتحانی نظام میں اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 178 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور تقریباً 60 مظاہرین شامل ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر تشدد کا الزام عائد کیا جبکہ احتجاجی رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر طاقت کے بے جا استعمال کا الزام لگایا۔

پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جسے حالیہ برسوں میں نئی دہلی کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نامی تحریک کر رہی ہے، جس نے رواں برس آغاز کے بعد سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ تحریک کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا اور امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، احتجاج جاری رہے گا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں اور پرامن انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

دوسری جانب سی جے پی رہنما آشوتوش رانکا نے پولیس کارروائی کو "بھارتی جمہوریت کا سیاہ دن” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پرامن طلبہ پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔

منگل کو بھی سیکڑوں مظاہرین دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دیے بیٹھے رہے اور پولیس کارروائی کی تحقیقات، تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے۔

اس معاملے پر بھارتی پارلیمنٹ میں بھی شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، جہاں اپوزیشن نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد پر فوری بحث کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں بے روزگاری، امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور متعدد اسکینڈلز کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ ماہ 22 لاکھ سے زائد میڈیکل طلبہ کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ قومی داخلہ امتحان دینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن امتحانی نتائج کے نظام سے متعلق ایک اور تنازع نے بھی تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیمی بحران وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے اہم ترین داخلی سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن چکا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں