اسلام آباد / لاہور / پشاور (ایم این این): ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تباہی مچا دی ہے، جہاں شدید بارشوں، اچانک سیلاب، مکانات کی چھتیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں خیبرپختونخوا میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 جبکہ پنجاب میں 17 ہو گئی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق 19 جولائی سے شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور شمالی علاقوں میں مزید شدید بارشوں، فلیش فلڈ، شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں تباہی، 20 افراد جاں بحق
تازہ واقعہ شمالی وزیرستان میں پیش آیا جہاں دریائے توچی میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے دو افراد کی لاشیں کئی گھنٹوں کی امدادی کارروائی کے بعد نکال لی گئیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث دریائے توچی میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک بلند ہے اور شہریوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس سے قبل اپر جنوبی وزیرستان کے علاقے بنگی والا میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں میاں بیوی اور ان کے دو بچے شامل تھے، جاں بحق ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران درجنوں افراد زخمی، متعدد مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ جبکہ مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ عوام کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1700 ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
وانا۔گومل زم روڈ لینڈ سلائیڈنگ سے بند
شدید بارشوں کے باعث جنوبی وزیرستان لوئر میں اہم تجارتی شاہراہ وانا۔گومل زم روڈ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی۔
بڑے پتھر گرنے، پلوں، حفاظتی دیواروں اور سڑک کو شدید نقصان پہنچنے سے آمدورفت معطل ہوگئی جبکہ کئی علاقوں میں زرعی اراضی بھی سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئی۔
ضلعی انتظامیہ نے بھاری مشینری کے ذریعے سڑک بحال کرنے کا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ قبائلی عمائدین نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری تعمیر نو کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کا ہنگامی اجلاس
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مون سون سے نمٹنے کے اقدامات، امدادی سرگرمیوں، نکاسی آب اور صوبائی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں این ڈی ایم اے، واپڈا اور دیگر متعلقہ اداروں کو مکمل الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
پنجاب میں ریکارڈ بارش، شہری علاقوں میں سیلاب
دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش نے شہری زندگی مفلوج کر دی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گوجرانوالہ میں ریکارڈ 245 ملی میٹر، لاہور میں 123 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 139، منڈی بہاؤالدین میں 138، نارووال میں 117، گجرات میں 95 اور چکوال میں 70 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ادارے کے مطابق مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک پنجاب میں 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں۔
لاہور، گوجرانوالہ، گجرات اور دیگر شہروں میں متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔
گوجرانوالہ کا شمسی انڈر پاس مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا جبکہ لاہور کے جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ، فیروزپور روڈ، ملتان روڈ، سمن آباد، گلشنِ راوی، ماڈل ٹاؤن اور لکشمی چوک سمیت کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔
واسا پنجاب کے مطابق صوبے کے 41 اضلاع میں نکاسی آب کے لیے ہنگامی ٹیمیں متحرک ہیں اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نہروں، دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب جانے یا نہانے سے گریز کریں، جبکہ صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے تمام اداروں کو نچلے علاقوں سے فوری پانی نکالنے اور شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔


