واشنگٹن (ایم این این): امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کرنے والی ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔ اس اقدام کو ایران سے جاری جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس کی جانب سے ایک اور علامتی مخالفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریپبلکن اکثریت والے ایوان میں یہ قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کانگریس جنگ کی منظوری نہ دے تو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلایا جائے۔
تاہم یہ قرارداد غیر پابند نوعیت کی ہے اور اسے صدر کے دستخط کے لیے نہیں بھیجا جائے گا، اس لیے اس کے عملی طور پر امریکی فوجی کارروائیوں پر اثر انداز ہونے کا امکان کم ہے۔
قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ، برائن فٹزپیٹرک، وارن ڈیوڈسن اور تھامس میسی شامل ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک علیحدہ قرارداد پر امریکی سینیٹ میں بھی ووٹنگ متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے فوجی اہداف پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی امریکی فوجی اڈوں اور واشنگٹن کے اتحادی خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی میتیں بھی وطن واپس پہنچا دی گئی ہیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک پھیل چکی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز میں بھی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
کانگریس میں ہونے والی ووٹنگ نے اس جنگ پر بڑھتی ہوئی تشویش کو نمایاں کر دیا، جو رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
قرارداد پیش کرنے والی رکن کانگریس پرامیلا جے پال نے اس ووٹنگ کو امریکی عوام کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ایسی "غیر قانونی جنگ” ختم کرنی چاہیے جو کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری رکھی گئی ہے۔
ڈیموکریٹ ارکان کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ اور امن کے فیصلوں کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
دوسری جانب بیشتر ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی حمایت جاری رکھی۔ ایوان خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے بعد امریکی کارروائی ضروری تھی اور اس کا مقصد خطے میں ایران کو جوابدہ بنانا ہے۔
بعد ازاں امریکی سینیٹ نے بھی ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی ایک علیحدہ جنگی اختیارات کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے ریپبلکن ارکان پر زور دیا کہ وہ جنگ سے متعلق فیصلوں میں کانگریس کے آئینی کردار کا دفاع کریں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صدر کے فوجی اختیارات محدود کرنے سے ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمت عملی کمزور پڑ سکتی ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ جنگ کے فیصلوں میں کانگریس کا کردار ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔


