دوحہ/اسلام آباد (ایم این این): مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جہاں برینٹ خام تیل مئی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جو تقریباً دو ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ اور ایران و امریکہ کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرتی کشیدگی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے عالمی توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب بھی عالمی تیل بردار جہازوں کے لیے اہم گزرگاہیں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اہم بحری راستے متاثر رہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی محدود ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی، شرح سود اور عالمی معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ سوزانا اسٹریٹر نے کہا کہ سرمایہ کار بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر دونوں پر بڑھتے دباؤ نے عالمی منڈیوں میں خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے باب المندب میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ سعودی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی کہ حملے کے بعد ایک ٹینکر میں آگ لگ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثیوں نے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھے تو انہیں "شدید فوجی سزا” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جون کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی تقریباً ختم ہو چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے اطراف دوبارہ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
امریکی فوج نے ایران کے فوجی اہداف پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور اتحادی ممالک پر حملے جاری رکھے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی آئل ٹینکر کو ایران کی اجازت اور رابطے کے بغیر گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری ادارے گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل اگلے سال تک برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پیداوار میں کمی، موسم گرما میں ایندھن کی بڑھتی طلب، عالمی ذخائر میں کمی اور اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے محدود اجرا کے باعث جولائی اور اگست کے دوران بھی تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔


