لاہور (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کے روز الزام عائد کیا کہ پارٹی کی پنجاب چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں چند خواتین قیدیوں نے حملہ کیا اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ جیل حکام نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق جیل کے واش روم میں پانی بھرنے کے معاملے پر جھگڑا ہوا، جس کے دوران ایک خاتون قیدی نے تقریباً دس دیگر خواتین قیدیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر عالیہ حمزہ پر حملہ کیا اور ان کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ قید میں موجود پی ٹی آئی رہنما ثناء جاوید اور فلک جاوید نے بروقت مداخلت کر کے عالیہ حمزہ کو حملہ آوروں سے بچایا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے عالیہ حمزہ کی جان پر حملے کی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ زیر حراست رہنما کی حفاظت کی مکمل ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ عالیہ حمزہ کے اہل خانہ سے مشاورت کے بعد ان کے طبی معائنے اور تحفظ کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
دوسری جانب پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے جسمانی حملے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی مارپیٹ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق خواتین قیدیوں کے درمیان صرف جیل کے واش روم سے پانی لینے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ عالیہ حمزہ کو مارچ میں پنجاب پولیس نے اس دعوے کے تحت گرفتار کیا تھا کہ وہ مفرور تھیں اور اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں، ٹکٹ ہولڈرز اور کارکنوں کے اجتماعات منظم کر رہی تھیں۔ انہیں عیدالفطر کے موقع پر لاہور میں اہل خانہ سے ملاقات کے دوران گرفتار کیا گیا، جہاں پہلے انہیں شادمان تھانے منتقل کیا گیا اور بعد ازاں کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔
گرفتاری کے بعد سلمان اکرم راجہ نے عالیہ حمزہ کے خلاف مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہوئے ان کی سزا کو غیر قانونی اور گرفتاری کو "فاشزم” کی مثال قرار دیا تھا۔


