پی سی بی کے بڑے فیصلے میرے لیے بھی حیران کن تھے، بابر اعظم

0
4

لندن/اسلام آباد (MNN)؛ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کو برطرف کرنے اور سات کھلاڑیوں کو انگلینڈ سے واپس بھیجنے کا فیصلہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔

لارڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں 194 رنز کی شکست کے بعد پی سی بی نے قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ شکست کے نتیجے میں انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی تھی۔

پی سی بی نے اس کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ ان کی جگہ وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

بورڈ نے سیریز کے دوران ہی اسکواڈ میں شامل سات کھلاڑیوں کو بھی واپس بھیج دیا، جن میں تجربہ کار بلے باز امام الحق، محمد رضوان اور سلمان علی آغا شامل تھے۔

ان کھلاڑیوں کی جگہ انگلینڈ بھیجے جانے والے پانچ کھلاڑیوں کو ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا تجربہ نہیں تھا۔

بعد میں سامنے آیا کہ یہ بڑے فیصلے قومی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے ٹیم ڈریسنگ روم سے باہر کیے گئے تھے، جس کے باعث ٹیم کے کئی ارکان بھی ان اقدامات سے پہلے لاعلم تھے۔

بابر اعظم نے بھی تصدیق کی کہ انہیں فیصلوں کا پیشگی علم نہیں تھا۔

ایجبسٹن میں آخری ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس میں بابر نے کہا کہ انہیں بھی ان تبدیلیوں کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا۔

پی سی بی کے فیصلوں سے خود کو الگ رکھا

پی سی بی کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر اور سلیکٹر عاقب جاوید نے بعد میں بتایا تھا کہ کوچنگ اسٹاف کو ہٹانے کا فیصلہ دوسرے ٹیسٹ سے قبل بعض سلیکشن فیصلے نہ کیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا۔

کوچنگ اسٹاف اور متعدد کھلاڑیوں کی تبدیلی کے باوجود بابر اعظم کو آخری ٹیسٹ کے لیے کپتان برقرار رکھا گیا۔

تاہم بابر نے واضح کردیا کہ ان تبدیلیوں میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور فیصلے پی سی بی نے کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کی وضاحت خود کرکٹ بورڈ ہی بہتر طور پر کرسکتا ہے۔

بابر نے کہا کہ ایک کھلاڑی اور کپتان کی حیثیت سے انہیں بورڈ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی نے یہ فیصلے یقیناً غور و فکر کے بعد کیے ہوں گے، اس لیے ان کے بارے میں وضاحت بھی بورڈ حکام ہی بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔

بابر اعظم نے بعض کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور طرز عمل سے متعلق پی سی بی کی داخلی تحقیقات سے آگاہ ہونے کی بھی واضح طور پر تردید کردی۔

ہنگامہ خیز ہفتے کو بھلا کر میدان پر توجہ دینے کا فیصلہ

سیریز میں فیصلہ کن شکست کے بعد بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان ٹیم کے پاس اب ان تمام ہنگامہ خیز واقعات کو پیچھے چھوڑ کر آخری ٹیسٹ میں اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

نئے کھلاڑیوں کی آمد کے بعد پاکستان کے پاس آخری ٹیسٹ کے لیے کئی نئے آپشنز موجود ہیں۔

نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ اور آل راؤنڈر عرفات منہاس ٹیسٹ ڈیبیو کرسکتے ہیں، جبکہ آٹھ ٹیسٹ کھیلنے والے صائم ایوب کی ٹیم میں واپسی کا بھی امکان ہے۔

بابر نے نوجوان کھلاڑیوں کی آمد کو ان کے لیے بین الاقوامی سطح پر خود کو منوانے کا سنہری موقع قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کے پاس اس میچ میں بہترین کارکردگی دکھا کر اپنی جگہ بنانے کا سنہری موقع موجود ہے۔

بابر کی کھلاڑیوں کو آزادانہ کرکٹ کھیلنے کی ہدایت

پاکستانی کپتان نے تسلیم کیا کہ سیریز پہلے ہی ہاتھ سے نکل چکی ہے، تاہم ان کے مطابق اس صورتحال سے کھلاڑی آخری ٹیسٹ میں نسبتاً کم دباؤ کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے ٹیم کو آزادانہ انداز میں میدان میں اترنا اور خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

بابر کے مطابق ٹیم نے گزشتہ چند روز کے دوران بھرپور پریکٹس کی ہے اور کھلاڑیوں نے آپس میں صورتحال پر تفصیلی گفتگو بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم میں نئے یا نوجوان کھلاڑی شامل ہوتے ہیں تو ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے، اور یہ جوش موجودہ پاکستانی اسکواڈ میں بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان اب آخری ٹیسٹ جیت کر سیریز کا اختتام مثبت انداز میں کرنے اور حالیہ ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں