پشاور میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 داعش خراسان کے دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد

0
5

پشاور (MNN)؛ پشاور کے نواحی علاقے شمشتو کیمپ کے قریب جمعرات کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے وابستہ 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کابل انگلش لینگویج سینٹر کے قریب ایک کمپاؤنڈ میں داعش خراسان کے مسلح عناصر موجود ہیں، جو حساس تنصیبات، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے سمیت بڑے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اطلاع کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی کی سوات ٹیموں نے کمپاؤنڈ کو چاروں اطراف سے گھیر لیا اور داخلے و اخراج کے تمام ممکنہ راستے محفوظ بنا دیے۔ کمپاؤنڈ میں تہہ خانہ موجود ہونے کے باعث اہلکاروں نے آپریشن کے دوران انتہائی احتیاط سے پیش قدمی کی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کمپاؤنڈ میں موجود دہشت گردوں نے اہلکاروں کو جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ شروع کردی، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کارروائی میں معاونت کے لیے ڈرون بھی استعمال کیا گیا۔

کارروائی کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) اور فرانزک ٹیموں کو موقع پر طلب کیا گیا، جنہوں نے شواہد محفوظ کیے اور ضروری قانونی و تکنیکی کارروائی مکمل کی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، 4 پستول، 2 دستی بم، 5 میگزین، مقامی طور پر تیار کردہ آئی ای ڈی اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا۔

دو ہلاک دہشت گردوں کی شناخت ان کے قبضے سے ملنے والے شناختی کارڈز کی مدد سے کی گئی۔ ایک کی شناخت عمران ولد دلاور خان، سکنہ ترخو کٹ کوٹ، تحصیل ماموند، ضلع باجوڑ، جبکہ دوسرے کی شناخت شاہداللہ ولد میراج، سکنہ شیخ بابا چارتہ، اپر مہمند کے طور پر ہوئی۔ باقی تین دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق عمران عرف عبداللہ، بلال اور ابوبکر انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں شامل تھے اور پشاور سمیت دیگر اضلاع میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں کے تقریباً 20 مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

محکمے کے مطابق عمران آئی ای ڈی اور گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے دھماکوں، پولیس افسران اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ اور پولیس و سیکیورٹی فورسز پر خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کرتا رہا۔

سی ٹی ڈی نے مزید الزام عائد کیا کہ عمران مولانا خان زیب، سینیٹر ہدایت اللہ اور ریحان زیب کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ محکمہ کے مطابق عمران دیگر دہشت گردوں کے ہمراہ موقع پر موجود تھا اور ریحان زیب پر فائرنگ بھی کی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق عمران 6 فروری کو اسلام آباد کے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کا بھی مبینہ ماسٹر مائنڈ تھا اور اس مقدمے میں اسلام آباد سی ٹی ڈی کو مطلوب تھا۔

محکمے کے مطابق عمران نے ترلائی حملے کے لیے باجوڑ سے خودکش جیکٹ کا انتظام کیا اور خودکش حملہ آور کو نوشہرہ سے ترلائی منتقل کرنے میں معاونت کی۔ شاہداللہ نے مبینہ طور پر حملے سے قبل علاقے کی ریکی کی اور امام بارگاہ کو ہدف کے طور پر شناخت کیا۔

رواں سال فروری میں نماز جمعہ کے دوران امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی میں خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد جاں بحق اور تقریباً 169 زخمی ہوئے تھے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق عمران کی گرفتاری یا اس کے ٹھکانے سے متعلق اطلاع فراہم کرنے پر حکومت نے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ وہ 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔

واقعے کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی سوات اہلکاروں کی بہادری، بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں