این سی سی آئی اے کی امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ

0
4

اسلام آباد/لندن (MNN)؛ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان کے کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز کی جانچ شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کے مالی معاملات اور پاکستان کے انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم سے متعلق معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا بنیادی محور دونوں کرکٹرز کے مشتبہ مالی لین دین ہیں۔ امام الحق اور محمد رضوان کے انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز سے قبل اور بعد کے مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ عرصے کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹس سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر کسی لین دین کو مشتبہ قرار دیا گیا تو تفتیش کار رقم کے ذرائع اور اس کی منتقلی کی منزل کا تعین کریں گے۔ کسی کمپنی، فرد یا ادارے کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی ادائیگیوں کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مالی معاملات کی تحقیقات سے جوڑا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق موبائل فونز میں موجود پیغامات، رابطوں اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کی فرانزک جانچ کی جا رہی ہے تاکہ تحقیقات سے متعلق کسی ممکنہ معلومات کا سراغ لگایا جا سکے۔

تحقیقات کا ایک اہم پہلو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم کی معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے کا معاملہ بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق انگلینڈ میں پریکٹس سیشنز اور میچز کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے رابطوں، ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے ہیں۔

امام الحق اور محمد رضوان جمعرات کو لاہور کے جوہر ٹاؤن میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہوئے، جہاں دونوں سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑی تقریباً 3 بجے دفتر پہنچے تھے۔ پوچھ گچھ کے بعد دونوں نے اپنے جوابات جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے تاحال دونوں کرکٹرز کے خلاف کسی الزام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن سے امام الحق اور محمد رضوان کو 2026ء کے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیموں میں شامل کیے جانے کے حوالے سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔

پی سی بی کی جانب سے 31 اگست کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق متعلقہ سلیکشن کمیٹی رکن نے 2 جون کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں دونوں ٹیسٹ سیریز کے لیے کھلاڑیوں پر غور اور ان کے انتخاب کی ذمہ داری مقرر کی گئی تھی۔

این سی سی آئی اے کی تازہ تحقیقات اور پی سی بی کی جانب سے الگ سے طلب کی گئی وضاحت کے بعد دونوں سینئر کرکٹرز کے انتخاب اور سرگرمیاں ایک بار پھر جانچ پڑتال کی زد میں آگئی ہیں، تاہم کسی بھی کھلاڑی کے خلاف فی الحال کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی باضابطہ طور پر ثابت نہیں ہوئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں