حوثیوں نے اسٹریٹجک جزیرہ میون پر قبضہ کرلیا، باب المندب پر گرفت مضبوط

0
4

دوحہ/دبئی/اسلام آباد (MNN)؛ یمن کی حوثی تحریک نے بحیرہ احمر میں واقع اسٹریٹجک جزیرہ میون (پیریم) کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے بعد اہم بحری گزرگاہ باب المندب آبنائے کے اطراف حوثیوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

مقامی حکومتی عہدیدار اور عینی شاہدین کے مطابق جزیرے پر حوثی جنگجوؤں نے اس وقت قبضہ کیا جب یمنی حکومتی فورسز ایک روز قبل وہاں سے نکل گئی تھیں۔

جزیرہ میون باب المندب آبنائے کے دہانے پر واقع ہے اور اہم آبی گزرگاہ کو دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک مقامی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ مسلح حوثی جنگجو کشتیوں کے ذریعے جزیرے پر پہنچے اور وہاں تعینات ہوگئے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق مسلح افراد نے باب المندب کے ساحلی علاقے میں اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور فوجی گاڑیوں میں علاقے میں گشت کرتے رہے۔

جزیرے پر قبضہ حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے اہم بحری راستے کے اطراف اپنا کنٹرول بڑھانے کی اب تک کی اہم ترین پیش قدمی قرار دیا جارہا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ باب المندب سے بحری آمدورفت محفوظ ہے، تاہم سعودی جہازوں پر پابندی برقرار رہے گی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری نقل و حرکت محفوظ ہے۔

مخا بندرگاہ پر میزائل حملے

دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام شہر مخا کے ہوائی اڈے کو سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق سعودی عرب نے اسٹریٹجک شہر مخا کے ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کیے۔

بعد ازاں ایک یمنی حکومتی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مخا بندرگاہ پر چھ میزائل داغے گئے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ میزائل کہاں سے فائر کیے گئے۔

بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع مخا شہر باب المندب کے قریب ایک اہم اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے اور اب حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

یہ پیش رفت یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

سعودی عرب میں حفاظتی الرٹ

اس سے قبل سعودی حکام نے جمعرات کو یمن کی سرحد کے قریب واقع ابہا اور خمیس مشیط کے علاقوں میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے مختصر حفاظتی انتباہات جاری کیے تھے۔

ان علاقوں کو رواں ہفتے کے آغاز میں حوثیوں نے نشانہ بنایا تھا۔ تاہم سعودی سول ڈیفنس کے مطابق یہ الرٹس کچھ ہی دیر بعد واپس لے لیے گئے۔

آبنائے ہرمز پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز

باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ خطے کی ایک اور اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو عمان میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جس کا مقصد عمان اور ایران کی کوششوں کے تحت آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بتایا کہ ایران پیر کو عمان میں عراق اور خلیج سے متصل دیگر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس کی منصوبہ بندی کررہا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ تجارتی بحری راستوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

رائٹرز ان اطلاعات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی حوثیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ “بہادر یمنی عوام” ضرور کامیاب ہوں گے۔

تازہ صورتحال سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دنیا کی دو اہم بحری گزرگاہوں، باب المندب اور آبنائے ہرمز، کو درپیش خطرات نمایاں ہوتے ہیں، جن کے ذریعے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں