ہرنائی کوئلہ کان میں گیس دھماکا، 4 کان کن جاں بحق، 5 زخمی

0
2

کوئٹہ (MNN)؛ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں گیس کے دھماکے کے نتیجے میں چار کان کن جاں بحق جبکہ پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق دھماکے کے بعد متعدد کان کن کان کے اندر پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے پاک فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران کان کے اندر پھنسے پانچ کان کنوں کو زندہ بحفاظت نکال لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں چار کان کن جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ زخمی کان کنوں کو مزید طبی علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی کوئلہ کانوں، خصوصاً بلوچستان میں، گیس جمع ہونے کے باعث حادثات پیش آنا معمول بن چکا ہے۔

مزدور یونین کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کان کنوں کو مناسب حفاظتی سامان کی عدم فراہمی اور کام کے غیر محفوظ حالات کا سامنا ہے، جو کان کنی کے دوران حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

بلوچستان میں کان کنی کے حالیہ حادثات

تازہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ ماہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے ڈگاری میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے سے تین کان کن جاں بحق ہوئے تھے۔

جولائی کے آخر میں کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان میں طاقتور میتھین گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 کان کن جاں بحق ہوئے تھے۔ جاں بحق ہونے والے زیادہ تر کان کنوں کا تعلق شانگلہ سے بتایا گیا تھا۔

بعد ازاں جاں بحق کان کنوں کے ورثا نے چار لاکھ روپے کے معاوضے کے چیکس وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کان کنوں کی حفاظت اور حقوق کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

کوئٹہ کے المناک حادثے کے بعد نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان نے کانوں میں حفاظتی انتظامات میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکریٹری عمر حیات کے مطابق صوبے میں 196 مائننگ کمپنیاں تقریباً 3,000 کوئلہ کانیں چلا رہی ہیں، جبکہ حفاظتی معیار کی نگرانی کے لیے صرف 17 مائن انسپکٹرز تعینات ہیں۔

انہوں نے مائن انسپکٹرز کی تعداد کو کان کنی کے وسیع نیٹ ورک کے مقابلے میں انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے کانوں میں حفاظتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور نگرانی کا مطالبہ کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں