واشنگٹن (MNN)؛ امریکا نے غیر ملکی طلبہ کے امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت ایف ون ویزا رکھنے والے طلبہ کو ملک میں اپنے مجاز قیام کی مدت پر پہلے سے زیادہ محتاط نظر رکھنا ہوگی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے ایف ون طلبہ کے لیے طویل عرصے سے جاری “ڈوریشن آف اسٹیٹس” (D/S) نظام ختم کرکے اس کی جگہ قیام کی مقررہ مدت کا نظام نافذ کردیا ہے۔
نئے نظام کے تحت ایف ون طلبہ کو عموماً ان کے Form I-20 میں درج تعلیمی پروگرام کی مدت کے لیے امریکا میں داخلہ دیا جائے گا، تاہم یہ مدت زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہوگی۔ طلبہ کو پروگرام شروع ہونے سے قبل امریکا پہنچنے کے لیے 30 دن جبکہ پروگرام یا مجاز پوسٹ کمپلیشن ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کے لیے بھی 30 دن ملیں گے۔
وہ طلبہ جنہیں موجودہ تعلیمی پروگرام مکمل کرنے، نیا پروگرام شروع کرنے یا پوسٹ کمپلیشن OPT یا STEM OPT جاری رکھنے کے لیے اضافی وقت درکار ہوگا، انہیں مزید امیگریشن کارروائی کرنا ہوگی۔
ایسے طلبہ امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) سے قیام میں توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں یا امریکا سے باہر جاکر دوبارہ واپسی پر کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) سے نئی مدتِ داخلہ حاصل کرسکتے ہیں۔
DHS نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ توسیع کی درخواست دینے سے قبل اپنی یونیورسٹی کے متعلقہ Designated School Official (DSO) سے مشورہ کریں۔ توسیع کے خواہش مند طلبہ کو اپ ڈیٹ شدہ Form I-20 پر مطلوبہ سفارش حاصل کرنے کے بعد USCIS میں Form I-539 جمع کرانا ہوگا۔
امریکا میں پہلے سے موجود طلبہ کے لیے کیا ہوگا؟
نئے قوانین کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا میں پہلے سے موجود ہر ایف ون طالب علم کو 15 ستمبر کو نئی درخواست لازماً جمع کرانا ہوگی۔
جو طلبہ 15 ستمبر کو پرانے D/S نظام کے تحت ایف ون حیثیت میں امریکا میں موجود ہوں گے، وہ عموماً نئی توسیع کی درخواست دیے بغیر اپنے متعلقہ تعلیمی پروگرام یا OPT/STEM OPT کی اختتامی تاریخ تک امریکا میں رہ سکیں گے، تاہم اس کا انحصار عبوری قواعد پر ہوگا۔
ان طلبہ کے لیے عبوری مدت عموماً 14 نومبر 2030 سے آگے نہیں جائے گی۔
تاہم بیرون ملک سفر کرنے والے موجودہ ایف ون طلبہ کے لیے صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔ 15 ستمبر کے بعد امریکا سے باہر جانے والے طلبہ کی واپسی پر انہیں پرانے D/S نظام کے بجائے نئے مقررہ مدت کے نظام کے تحت داخلہ دیا جاسکتا ہے۔
اسی لیے بیرون ملک سفر کا ارادہ رکھنے والے طلبہ کو روانگی سے قبل اپنی یونیورسٹی کے متعلقہ افسر سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تعلیمی منصوبوں میں تبدیلیوں پر نئی پابندیاں
نئے قواعد کے تحت ایف ون طلبہ کے تعلیمی منصوبوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے بھی مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
انڈر گریجویٹ طلبہ عام طور پر پروگرام کے پہلے سال کے دوران تعلیمی سطح یا میجر تبدیل نہیں کرسکیں گے، تاہم غیر معمولی حالات میں استثنا دیا جاسکتا ہے۔
گریجویٹ طلبہ کو تعلیمی سطح، میجر اور یونیورسٹی تبدیل کرنے کے حوالے سے مزید پابندیوں کا سامنا ہوگا۔
نئے نظام کے تحت پروگرام یا پوسٹ کمپلیشن OPT/STEM OPT مکمل ہونے کے بعد امریکا چھوڑنے کی مدت بھی سابقہ 60 دن سے کم کرکے 30 دن کردی گئی ہے۔
USCIS کے نئے فارم بھی لازمی
15 ستمبر سے امیگریشن کاغذات کے حوالے سے بھی تبدیلیاں نافذ ہوں گی۔ قیام میں توسیع یا نان امیگرنٹ اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے Form I-539 جبکہ ملازمت کی اجازت کے لیے Form I-765 جمع کرانے والے طلبہ کو USCIS کی جانب سے مقرر کردہ نئے فارم ایڈیشن استعمال کرنا ہوں گے۔
USCIS نے پرانے ایڈیشن استعمال کرنے والوں کے لیے کسی رعایتی مدت کا اعلان نہیں کیا، اس لیے درخواست جمع کرانے سے قبل فارم کے ایڈیشن کی تاریخ چیک کرنا ضروری ہوگا۔
امریکی جامعات کا طلبہ کو سفری منصوبے احتیاط سے بنانے کا مشورہ
ہارورڈ، ییل، کولمبیا، کارنیل اور اسٹینفورڈ سمیت متعدد معروف امریکی جامعات نے بین الاقوامی طلبہ کو نئے قواعد کے حوالے سے رہنمائی جاری کرتے ہوئے اپنے سفری منصوبوں اور امیگریشن ریکارڈ پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
جامعات نے واضح کیا ہے کہ 15 ستمبر موجودہ ایف ون طلبہ کے لیے امریکا چھوڑنے یا نئی درخواست جمع کرانے کی عمومی آخری تاریخ نہیں ہے۔
تاہم طلبہ کو اپنے Form I-94، پروگرام کی اختتامی تاریخ، OPT منصوبے اور بیرون ملک سفر کے ممکنہ امیگریشن اثرات سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے۔
ییل یونیورسٹی کے مطابق پرانے D/S نظام کے تحت پہلے سے امریکا میں موجود طلبہ کو عموماً 15 ستمبر کو فوری کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم اس تاریخ کے بعد بیرون ملک سفر کرکے واپس آنے والے طلبہ کو عموماً نیا I-94 جاری کیا جائے گا جس پر مخصوص “Admit Until” تاریخ درج ہوگی۔
ہارورڈ نے بھی خبردار کیا ہے کہ 15 ستمبر کے بعد بیرون ملک سفر مستقبل کے OPT اور قیام میں توسیع کی منصوبہ بندی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
کولمبیا اور کارنیل نے بھی عبوری قواعد کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی جاری کی ہے جبکہ اسٹینفورڈ نے خبردار کیا ہے کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد ایف ون اور جے ون طلبہ کو D/S نوٹیشن کے تحت داخلہ نہیں دیا جائے گا۔
DHS کی نئی تبدیلیاں J-1 ایکسچینج وزٹرز اور بعض I-visa holders پر بھی لاگو ہوں گی، جن میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندے شامل ہیں۔ انہیں بھی پروگرام یا اسائنمنٹ کی مدت کے مطابق مقررہ عرصے کے لیے داخلہ دیا جائے گا۔
اضافی وقت درکار ہونے کی صورت میں J-1 شرکا کو عموماً قیام میں توسیع کی درخواست دینا ہوگی، جبکہ I ویزا رکھنے والے میڈیا نمائندگان کے لیے قیام کی مدت ان کے مجاز میڈیا اسائنمنٹ سے منسلک ہوگی۔
تاہم یہ تبدیلیاں بڑے دیگر نان امیگرنٹ ویزا زمروں، مثلاً H-1B، L-1، O-1 اور B-1/B-2 پر عمومی طور پر لاگو نہیں ہوتیں، کیونکہ ان زمروں میں پہلے ہی مقررہ مدت کے لیے داخلے کا نظام موجود ہے۔


