لاہور میں گرفتاری یا رضاکارانہ پولیس وین میں سوار؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اغوا کا الزام، پنجاب حکومت کی تردید

0
1

لاہور (MNN)؛ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کے روز الزام عائد کیا کہ لاہور میں حکام نے انہیں “اغوا” کیا اور بعد ازاں سیکیورٹی کے بغیر سڑک کنارے چھوڑ دیا، تاہم پنجاب حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی مرضی سے پولیس کی گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا، “ہمیں اغوا کیا گیا، پھر جب ان پر کہیں سے دباؤ آیا تو مجھے سیکیورٹی کے بغیر سڑک کنارے پھینک کر چلے گئے۔”

انہوں نے الزام عائد کیا کہ “ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی سازش” کی گئی اور کہا کہ وہ پہلے بھی خبردار کرچکے ہیں کہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تاہم پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی جس میں سہیل آفریدی کو خود پولیس کی گاڑی کی جانب جاتے اور اس میں سوار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں بعد ازاں وہ گاڑی سے اترنے سے انکار کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ایک شخص انہیں گاڑی سے اترنے کی درخواست کرتا سنائی دیتا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر رات تقریباً 9 بجے جاری کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ سہیل آفریدی “خود پنجاب پولیس کی وین میں سوار ہوئے اور تھانے پہنچے۔” اس سے چند منٹ قبل جاری ایک اور پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ لاہور کی مال روڈ پر پارٹی کارکنوں کے احتجاجی اجتماع میں موجود تھے۔

وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود خیبر پختونخوا حکومت کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا کہ سہیل آفریدی زیرحراست پارٹی کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس وین میں سوار ہوئے تھے۔ بعض کارکنوں کو رہا کردیا گیا، تاہم کچھ افراد وین میں موجود رہے، جس پر وزیراعلیٰ نے گاڑی سے اترنے سے انکار کردیا۔

افسر کے مطابق پولیس وین کو احتجاجی مقام سے کچھ فاصلے پر لے گئی، جہاں بعد ازاں سہیل آفریدی کو گاڑی سے اتار دیا گیا۔

‘مینڈیٹ کی توہین’

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور انہیں سیکیورٹی عملے سے الگ کرکے زبردستی دوسری گاڑی میں منتقل کیا گیا۔

شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ کو ایک دور دراز مقام پر لے جایا گیا اور دباؤ بڑھنے کے بعد انہیں سیکیورٹی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر “پولیس گردی” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کسی بھی کوشش کو وفاق کی بنیادوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ دونوں صوبوں کے درمیان نفرت اور تصادم کو ہوا دینے کی خطرناک کوشش بن سکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے مینڈیٹ اور وقار کی “توہین” قرار دیا۔

پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات صوبوں کے درمیان “محرومی، بداعتمادی اور تقسیم” میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ صوبائیت، لسانیت، نفرت یا تقسیم کی سیاست نہیں کرے گی اور تمام صوبوں کے عوام کے مینڈیٹ کے احترام پر زور دیا۔

پارٹی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے پرامن اور جمہوری انداز میں ردعمل دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جبر اور سیاسی انتقام عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو مزید بڑھا دے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں