امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات

0
22

راولپنڈی (MNN)؛ امریکی کانگریس کے قائم کردہ افغانستان وار کمیشن کے ایک وفد نے پیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں افغانستان جنگ میں پاکستان کے کردار، علاقائی سکیورٹی اور افغانستان کی تازہ صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کمیشن کی شریک چیئرز شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی قیادت میں آنے والے وفد نے افغانستان میں تنازع کے دوران پاکستان کے ’’طویل المدتی کردار اور قربانیوں‘‘ کا اعتراف کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وفد نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کاوشوں کو بھی سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی وفد افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ ملاقات کے دوران افغانستان جنگ کے دوران پاکستان کی معاونت، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت سمیت ان امور پر گفتگو کی گئی جو کمیشن کے کام سے متعلق ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفد کو افغانستان میں تنازع کی تشکیل دینے والے سکیورٹی عوامل کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا اور افغانستان میں طویل امریکی موجودگی کے دوران پاکستان کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے تنازع کا جائزہ لیتے ہوئے علاقائی تناظر کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور افغانستان جنگ کے تزویراتی، سفارتی اور آپریشنل پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے تجربات سے آگاہ کیا۔

افغانستان وار کمیشن امریکی کانگریس نے 2021 میں ایک آزاد ادارے کے طور پر قائم کیا تھا، جس کا مقصد جون 2001 سے اگست 2021 تک افغانستان جنگ سے متعلق امریکی فیصلوں کا جائزہ لینا ہے۔

امریکی افواج نے 30 اگست 2021 کو افغانستان سے انخلا مکمل کیا، جس کے ساتھ ملک میں تقریباً دو دہائیوں پر محیط امریکی فوجی مداخلت کا اختتام ہوا۔

11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا نے افغانستان میں فوجی مداخلت شروع کی، جو بعد ازاں دو دہائیوں پر محیط جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس دوران طالبان، داعش، افغان سکیورٹی فورسز اور امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی افواج مختلف کارروائیوں میں شامل رہیں۔

جنگ کے دوران تقریباً 8 لاکھ امریکی فوجی اہلکاروں نے افغانستان میں خدمات انجام دیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2,238 امریکی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تقریباً 21 ہزار زخمی ہوئے۔

افغانستان میں تنازع کے نتیجے میں شہریوں کو بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (UNAMA) سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق طالبان، داعش، افغان فورسز اور امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے دوران 40 ہزار سے زائد شہری ہلاک اور تقریباً 77 ہزار زخمی ہوئے۔

آزاد اندازوں کے مطابق جنگ کے دوران افغان سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ رہی۔

2022 میں وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تفصیلی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکی فوجی آؤٹ سورسنگ سمیت مختلف اخراجات کے نتیجے میں پینٹاگون کے مجموعی اخراجات تقریباً 14 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جس کا ایک بڑا حصہ نجی ٹھیکیداروں کو ادا کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں