طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش، معاون پائلٹ سعودی عرب میں گرفتار

0
16

تل ابیب/دبئی/اسلام آباد (MNN): دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی مسافر پرواز میں بدھ کو دو پائلٹوں کے درمیان جھگڑے کے بعد طیارے کو ہنگامی طور پر سعودی عرب کے شہر تبوک منتقل کرنا پڑا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان کو چاقو مارا اور طیارے کے کنٹرول میں مداخلت کرتے ہوئے اسے گرانے کی کوشش کی۔

مسافروں اور عملے نے مداخلت کرکے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور کاک پٹ کو محفوظ بنایا، جس کے بعد طیارے میں موجود دوسرے پائلٹوں نے کنٹرول سنبھال کر طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتار لیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے واقعے کو انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مداخلت کرنے والے افراد نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔

فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں ہنگامی صورتحال کا سگنل جاری ہونے کے بعد طیارے نے اچانک تیزی سے بلندی کم کی۔ رائٹرز کے مطابق فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طیارہ تقریباً 33 ہزار فٹ کی بلندی سے ایک منٹ کے اندر 17 ہزار فٹ تک نیچے آیا اور اردن کی سرحد کے قریب غیر معمولی چکر لگانے کے بعد تبوک کی جانب روانہ ہوا۔
طیارے نے بعد ازاں سعودی عرب کے پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، تبوک پر بحفاظت لینڈنگ کی۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق کپتان اور معاون پائلٹ زخمی ہوئے اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مسافروں کو بھی مقامی حکام کی جانب سے طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

وزیراعظم نیتن یاہو کے مطابق طیارہ اچانک نیچے آنے لگا تو ایک مسافر اور عملے کا ایک رکن کاک پٹ میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر معاون پائلٹ کو طیارے کے نظام میں مداخلت کرتے دیکھا۔ طیارے میں موجود دوسرے پائلٹوں نے بعد ازاں کنٹرول سنبھال لیا اور طیارے کو بحفاظت لینڈ کرایا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق دونوں پائلٹوں کے درمیان جھگڑے کے دوران چاقو استعمال ہوا۔ رائٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے معاون پائلٹ کی قومیت عمانی بتائی، تاہم اسرائیلی میڈیا میں پائلٹوں کی قومیت کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئیں۔ نیتن یاہو کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کے بعد سعودی حکام نے معاون پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
فلائی دبئی نے تصدیق کی کہ کاک پٹ میں ایک “جھگڑا” ہوا، تاہم عملے نے طیارے کو محفوظ بنایا اور اسے سعودی عرب منتقل کرکے بحفاظت لینڈ کرایا۔ ایئرلائن نے کہا کہ واقعے کی بنیادی وجوہات تاحال معلوم نہیں اور قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کیا جائے۔
مسافروں کے مطابق کاک پٹ کے قریب شور اور جھگڑے کی آوازیں سنائی دینے کے بعد طیارے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک مسافر نعامہ برشادسکی نے بتایا کہ انہیں لگا کہ تمام مسافر مرنے والے ہیں، جس پر انہوں نے آنکھیں بند کرکے دعا کی۔ ایک اور مسافر کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی نے مدد کے لیے چیخنے کی آواز سنی اور ایک شخص کو چاقو پکڑے ہوئے دیکھا جو مبینہ طور پر ایک پائلٹ کو فرش پر گرا رہا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں طیارے کے فرش پر دو زخمی اور خون میں لت پت افراد دکھائی دیے، جبکہ بعض مسافر انہیں طبی امداد فراہم کرتے اور دیگر افراد کاک پٹ کی حفاظت کرتے نظر آئے۔

طیارے کی جانب سے ہنگامی سگنل جاری ہونے کے بعد اسرائیل نے ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشے کے پیش نظر جنگی طیارے بھی روانہ کیے۔ تاہم مسافر طیارہ بالآخر سعودی عرب میں بحفاظت لینڈ کر گیا۔

تقریباً آٹھ گھنٹے سعودی عرب میں رکنے کے بعد مسافروں کو فلائی دبئی کے متبادل طیارے کے ذریعے اسرائیل روانہ کر دیا گیا۔

واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہوئے۔ فلائی دبئی نے کہا ہے کہ واقعے کی بنیادی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں، جبکہ اسرائیلی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ واقعے کی دفاعی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ واقعہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات سے چند ہفتے قبل اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کی برسی سے قبل پیش آیا ہے، جس کے باعث ملک میں سکیورٹی خدشات پہلے ہی زیر بحث ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں سکیورٹی خطرات میں اضافے سے خبردار کیا تھا۔

سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کا واقعہ دونوں ممالک کے درمیان موجود غیر معمولی فضائی تعاون کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں، تاہم 2022 میں سعودی عرب نے اسرائیلی پروازوں کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے پر عائد طویل پابندی ختم کر دی تھی اور اس کے بعد اسرائیلی مسافروں والی پروازوں کو ہنگامی لینڈنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 2020 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر میں اضافہ ہوا۔ فلائی دبئی دبئی اور تل ابیب کے درمیان باقاعدہ پروازیں چلاتی ہے۔

سعودی حکام اور فلائی دبئی کے مطابق تمام مسافر محفوظ اور ان کا حساب مکمل ہے، جبکہ کاک پٹ میں پیش آنے والے واقعے اور طیارے کے کنٹرول میں مبینہ مداخلت کی تحقیقات جاری ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں