اسلام آباد (MNN)؛ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد اتوار کی علی الصبح بے نتیجہ ختم ہوگیا، فریقین کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہونے والے مذاکرات رات گئے دو بجے کے بعد اختتام پذیر ہوئے۔ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے تصدیق کی کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد نے عمران خان سے ملاقات، خواتین کارکنوں کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حوالے سے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ ہے اور پارٹی مذاکرات کو آگے بڑھانے سے قبل یہ ملاقات چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بامعنی مذاکرات اور معاملات کا پرامن حل چاہتی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی مذاکرات میں ڈیڈلاک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بعض معمولی نوعیت کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں تاہم عمران خان سے ملاقات کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کا اصرار تھا کہ اپوزیشن پہلے 4 اکتوبر کا لانگ مارچ واپس لے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ مارچ واپس لینے کا فیصلہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
اچکزئی کا لانگ مارچ واپس لینے سے انکار
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی 4 اکتوبر کا لانگ مارچ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مارچ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق ملاقات کے بعد عمران خان سے مشاورت کرکے لانگ مارچ کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور مشترکہ فیصلہ سب کو قبول ہوگا۔
ادھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے رات 12 بج کر 46 منٹ پر سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا سے لانگ مارچ کے شیڈول کا اعلان بھی کردیا۔
اسپیکر کی مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مذاکرات کا ماحول انتہائی خوشگوار رہا اور امید ظاہر کی کہ تمام فریق اسی جذبے کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان کا مذاکرات میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزراء امیر مقام اور سید مشتاق رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ شامل تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے۔
اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بھی جمعہ کو کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہوا تھا، تاہم فریقین نے ہفتے کو دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
پی ٹی آئی کا مذاکرات جاری رکھنے پر زور
پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے مذاکرات کے جاری رہنے کو ملک کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب مذاکرات کو کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کے بجائے پاکستان کی کامیابی سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے تعاون فراہم کیا جائے۔
شوکت یوسفزئی نے گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور امید ظاہر کی کہ حکومت پی ٹی آئی کو مناسب سیاسی گنجائش فراہم کرے گی۔
خواجہ آصف کے سکیورٹی خدشات
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت 4 اکتوبر کے احتجاج کی آڑ میں بدامنی پھیلانے میں معاونت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے احتجاج کی تیاریوں میں وزیرستان سے آنے والی گاڑیوں کی موجودگی پر سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ نوجوانوں کو پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کے قریب بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا ان گاڑیوں میں اسلحہ یا دھماکا خیز مواد تو موجود نہیں، اور احتجاجی قافلے کے اخراجات کے لیے رقم فراہم کرنے کے ذرائع کیا ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے وزیر دفاع کے بیان کے انداز کو نامناسب قرار دیا تاہم کہا کہ ان کی جماعت سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے راستے پر قائم ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے معاملے پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران ہورہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ حکومت نے خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت آئینی اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی ان اقدامات کی مخالفت کر رہی ہے۔


