مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا فوجی دستوں کی فوری تعیناتی پر اتفاق

0
15

ریاض/اسلام آباد (MNN): پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی (SPDC) کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اجتماعی دفاع سے متعلق معاہدے کی شقوں پر فوری عملدرآمد اور طے شدہ فوجی دستوں و صلاحیتوں کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد تینوں ممالک کی دفاعی تیاری، فوجی تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے شہروں، شہریوں اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی، تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے میں ان کی کارکردگی کی تعریف کی۔

اجلاس میں سیاسی اور عسکری مشاورت کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے پیش کی گئی سفارشات کی منظوری دی گئی۔

تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی ایک رکن کی سلامتی دراصل تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے سے دفاعی قوت اور مزاحمت کی صلاحیت مضبوط ہوگی اور تینوں ممالک کے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اظہار ہوگا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ اس وقت سعودی عرب میں معاون کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ جنگی کارروائیوں میں سعودی افواج حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو درکار ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان جاسوسی اور نگرانی سے متعلق سرگرمیوں میں بھی شریک ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اجلاس میں مکہ دفاعی اتحاد کے عملی اور تنظیمی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دینے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کے تحت پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا گیا ہے۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ آصف شامل تھے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور دفاعی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

مکہ دفاعی اتحاد کی موجودہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی اور لڑائی جاری ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کے حوالے سے ریاض میں اہم مشاورت کی تھی۔

پاکستان اس سے قبل بھی سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرچکا ہے اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں اضافے کی صورت میں اسلام آباد سعودی عرب کو عملی اور سفارتی تعاون فراہم کرے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں