حوثی باغیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ، متعدد افراد زخمی، پروازیں معطل

0
13

ریاض/اسلام آباد (ایم این این)؛ سعودی حکام نے ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تازہ حملے کے بعد فضائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دیں۔ حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے گئے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک سفارتی ذریعے نے حملے کا ذمہ دار یمن کے حوثی باغیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق نقصان کا جائزہ لینے اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق تک آپریشنز عارضی طور پر معطل رکھے گئے۔ حکام زخمیوں کی حتمی تعداد معلوم کرنے میں مصروف تھے۔

واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے ڈومیسٹک ٹرمینل میں دھماکے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور مسافر جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مسافر نے بتایا کہ وہ گیٹ 403 کے قریب موجود تھا جب اس نے گیٹ 401 کو نشانہ بنتے دیکھا۔ اس کے مطابق زخمی افراد اس کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے اور لوگ خوف کے عالم میں بھاگ رہے تھے۔

تین عینی شاہدین نے تصدیق کی کہ ایئرپورٹ سے لوگوں کو باہر نکالا جا رہا تھا۔

ایک طبی ذریعے کے مطابق سعودی وزارت صحت نے دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی ڈاکٹروں کو فوری طور پر ڈیوٹی پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ صورتحال کو انتہائی سنگین ہنگامی حالت قرار دیا گیا، جبکہ زخمیوں کو ریاض کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

ایک مقامی اسپتال کے ذریعے نے بتایا کہ پانچ زخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک زخمی کے عزیز کے مطابق میزائل حملے کے نتیجے میں شیشہ ٹوٹنے سے اس شخص کے کندھوں اور بازوؤں پر چوٹیں آئیں۔

دو ڈاکٹروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مکہ مکرمہ جانے والے متعدد عازمین بھی پرواز میں سوار ہونے کے انتظار کے دوران زخمی ہوئے۔

واقعے سے آگاہ ایک سفارتی ذریعے کے مطابق ایئرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق تقریباً سہ پہر تین بجے میزائل حملہ کیا گیا۔

سفارتی ذریعے نے حوثیوں پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاض ایئرپورٹ ایک شہری ہوائی اڈہ ہے۔

حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز کسی نئے حملے کا اعلان نہیں کیا، تاہم وہ ماضی میں سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ گروپ نے جمعرات کو بھی حملوں کا دعویٰ کیا تھا جن میں اطلاعات کے مطابق تین افراد ہلاک اور ایک طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔

غیر ملکی سفارت خانوں کی شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

حملے کے بعد متعدد غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی۔

سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اسے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کا علم ہے اور امریکی شہری متاثرہ علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

کینیڈا، جرمنی اور اسپین کے سفارت خانوں نے بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کیں۔ اسپین کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو حوثیوں سے منسوب ایک نئے حملے سے آگاہ کیا۔

ایک سینئر مغربی سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا کہ متعدد سفارت خانوں نے احتیاطی اقدام کے طور پر آئندہ ایک ہفتے کے دوران اپنے عملے کی ریاض ایئرپورٹ آنے اور وہاں سے روانگی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حملے اور آپریشنز کی معطلی کے باعث مسافروں کو سامان کے ساتھ ایئرپورٹ کے قریب میٹرو اسٹیشن کے باہر انتظار کرتے دیکھا گیا۔

یمن میں لڑائی میں شدت

ریاض ایئرپورٹ پر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے اور خطے میں وسیع تر تنازع کے باعث یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ علاقائی کشیدگی نے توانائی کی ترسیل اور عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد کی قیادت کرتا ہے اور حوثی باغیوں کے خلاف تنازع میں اس کا کردار مزید بڑھ گیا ہے۔

جولائی میں جنگ بندی کا سلسلہ ٹوٹنے کے بعد حوثی سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور آئل ٹینکروں کو بار بار نشانہ بناتے رہے ہیں۔ خطے میں جاری آٹھ ماہ کے تنازع کے دوران ریاض کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کو شدت اور تعداد کے لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب اور حوثی باغیوں دونوں کی جانب سے لڑائی جاری رکھنے کے اشاروں نے سفارتی حل کے امکانات کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

دوسری جانب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز باب المندب آبنائے کے قریب ان علاقوں میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف پیش قدمی کر رہی ہیں جن پر باغیوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو یہ اطلاع دی۔

یمنی حکومت نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل حوثی باغیوں نے ایک تیز فوجی کارروائی کے دوران ملک کے پورے مغربی ساحلی علاقے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

حوثیوں نے تصدیق کی کہ حکومتی فورسز نے باب المندب کے علاقے میں حملہ کیا، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اس کارروائی کو پسپا کر دیا۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر میں تیل کی ترسیل اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

میدان جنگ میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث متحارب فریقوں کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں