اسلام آباد (ایم این این): پاکستان اور رومانیہ نے باہمی فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات پاکستان میں رومانیہ کے سفیر نے اسلام آباد میں رومانیہ کے یومِ مسلح افواج کے سلسلے میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب میں ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (پروجیکٹس) ایئر مارشل شکیل غزنفر، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اعلیٰ فوجی افسران، سرکاری حکام اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
رومانیہ کے سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ 25 اکتوبر رومانیہ کے اہم قومی دنوں میں شامل ہے، جب ملک کی مسلح افواج کی تاریخی خدمات اور موجودہ دور میں فرائض انجام دینے والے فوجی اہلکاروں کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے رومانیہ ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کو اتحاد کی مضبوطی، سلامتی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یورپ میں امریکا کی طویل عرصے سے موجودگی نے امن، تعاون اور جمہوری اقدار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یورپی دفاعی صلاحیتوں کی جدید کاری ترجیح
یوکرین کے خلاف روسی فوجی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ یورپ میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورت حال کے باعث مسلح افواج کو جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رومانیہ کا ہدف 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 3.5 فیصد براہ راست دفاعی سرمایہ کاری جبکہ مزید 1.5 فیصد بالواسطہ دفاعی اور سلامتی سے متعلق اخراجات کے لیے مختص کرنا ہے۔ یہ اہداف 2025 میں دی ہیگ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے وعدوں کے مطابق ہیں۔
سفیر نے بتایا کہ رومانیہ یورپی یونین کے پروگرام ریڈینس 2030 کے تحت مالی معاونت سے بھی مستفید ہو رہا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے دفاعی پروگرام سیکیورٹی ایکشن فار یورپ (SAFE) کے تحت رومانیہ کے لیے 16.68 ارب یورو مختص کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دفاعی سازوسامان کی خریداری اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ رومانیہ کی مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنا ملک کی اہم اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی اور میزائل دفاع، جنگی طیاروں، بری اور بحری افواج، بغیر پائلٹ نظام، ڈرون مخالف ٹیکنالوجی، فوجی بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور مقامی دفاعی صنعت کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بحیرہ اسود میں سلامتی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز
رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ روس کی جانب سے جارجیا اور یوکرین کے خلاف فوجی کارروائیوں، 2014 میں کریمیا کے الحاق اور 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد بحیرہ اسود کے خطے کی اسٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے رومانیہ کی سرحد کے قریب دریائے ڈینیوب کے کنارے یوکرینی بندرگاہوں پر روسی حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے نتیجے میں رومانیہ کی فضائی حدود میں غیر مجاز ڈرون داخل ہونے کے واقعات بھی پیش آئے۔
سفیر کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران ایسے واقعات کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ رومانیہ کی فضائیہ نے ان میں سے چار ڈرون مار گرائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فضائی اور بحری ڈرونز کے واقعات، سائبر حملوں اور منظم گمراہ کن اطلاعات کی مہمات علاقائی سلامتی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں اور نیٹو اتحادیوں کی صلاحیتوں کا امتحان لے رہی ہیں۔
سفیر نے نیٹو کی اجتماعی دفاعی صلاحیت اور خطرات کو روکنے کی استعداد مضبوط بنانے کے لیے رومانیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رومانیہ یورپی یونین کی مشترکہ سلامتی اور دفاعی پالیسی کے تحت مختلف فوجی مشنز اور آپریشنز میں بھی حصہ لے رہا ہے۔
انہوں نے مشرقی یورپ اور مغربی بلقان کو رومانیہ کی امن و استحکام سے متعلق ترجیحات میں شامل قرار دیا اور جمہوریہ مالدووا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے 2030 تک اس کے رکن بننے کے ہدف کا ذکر کیا۔
یوکرین کی مسلسل معاونت جاری رکھنے کا عزم
رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کی کثیرالجہتی معاونت جاری رکھے گا اور یوکرین ڈیفنس کانٹیکٹ گروپ کی سرگرمیوں، بشمول دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اتحادوں، میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ رومانیہ یورپی یونین کے یوکرین کے لیے فوجی معاونت کے مشن (EUMAM UA) کے تحت یوکرینی فوجی اہلکاروں کی تربیت میں بھی حصہ لے رہا ہے اور یوکرین کی ضروریات کے مطابق تربیت کے مزید مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
پاکستان اور رومانیہ کے فوجی تعلقات میں پیش رفت
دوطرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان فوجی تعاون گزشتہ برسوں کے دوران مضبوط ہوا ہے اور اب یہ باہمی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان اور رومانیہ کی مشترکہ فوجی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کو اہم قرار دیا، جس میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے ایجنڈے میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی تربیت، فضائیہ کے تربیتی کورسز، فوجی تعلیم کے شعبے میں تجربات کا تبادلہ، مشترکہ بحری تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون شامل تھے۔ اس کے علاوہ بحیرہ اسود اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورت حال اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفیر نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) میں رومانیہ کی مسلسل شرکت کا بھی ذکر کیا، جہاں اس کا تعاون فوجی مبصرین کی صورت میں ہے۔
اختتام پر رومانیہ کے سفیر نے پاکستان کی مسلح افواج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی قربانیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے عالمی امن مشنز، انسانی ہمدردی کی کارروائیوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر رومانیہ کے سفیر نے دونوں ممالک کی دوستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”رومانیہ، پاکستان دوستی زندہ باد۔“


