تحریر: آصف نوید; راولپنڈی (MNN): انگلینڈ کو ون ڈے انٹرنیشنل (ODI) سہ فریقی سیریز کے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے پاکستان اور سری لنکا کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔ انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم نے دونوں ٹیموں کو مضبوط حریف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برصغیر کی کنڈیشنز میں کھیلنے کے لیے لچک اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
پاکستان میں انگلینڈ کی مہم کے آغاز سے قبل گفتگو کرتے ہوئے میک کولم نے کہا کہ اس خطے میں کرکٹ کھیلنے کے لیے حکمت عملی میں لچک پیدا کرنا اور مختلف کھیل کے حالات سے فوری طور پر ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان یقیناً ایک بہت مضبوط ٹیم ہے۔ جب آپ دنیا کے اس حصے میں آتے ہیں تو آپ کو مختلف انداز اپنانا پڑتا ہے۔ برصغیر کی ٹیموں کے خلاف انہی کے ہوم گراؤنڈز اور مقامی کنڈیشنز میں کھیلنے کے اپنے الگ چیلنجز ہیں۔‘‘
میک کولم نے کہا کہ انگلینڈ ایسی ٹیم بننا چاہتا ہے جو ہر قسم کے حالات میں کسی بھی حریف کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ان کے مطابق ٹیم بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے چیلنج کو قبول کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سہ فریقی سیریز خاصی مشکل ہوگی کیونکہ انگلینڈ کو دو مختلف ٹیموں کا سامنا کرنا ہے اور دونوں ہی سخت حریف ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’’ہم پاکستان اور سری لنکا دونوں کی مضبوطی کا احترام کرتے ہیں۔ فائنل تک رسائی کا موقع حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی۔‘‘
میک کولم پاکستان واپسی پر خوش
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میک کولم نے پاکستان واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ دوروں کے دوران ملنے والی مہمان نوازی اور سنسنی خیز مقابلوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ انگلینڈ نے حالیہ برسوں میں کئی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا ہے، جہاں ٹیم کو گرم جوش استقبال اور سخت مقابلوں کا تجربہ حاصل ہوا۔
میک کولم نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف کامیابیاں بھی ملی ہیں اور شکستوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور سری لنکا کے خلاف آئندہ میچوں کو ایک دلچسپ چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’موسم خوشگوار ہے، کھیل کے لیے حالات بہترین ہیں اور یہاں کی مہمان نوازی ہمیشہ شاندار ہوتی ہے۔ ہمیں یہاں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔‘‘
انگلینڈ کی توجہ حالات سے مطابقت پیدا کرنے پر مرکوز
میک کولم نے کہا کہ انگلینڈ کسی ایک طے شدہ حکمت عملی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہر میچ کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جلد از جلد حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کا مقصد کنڈیشنز سے قطع نظر ہر حریف کے خلاف مسابقتی کرکٹ کھیلنا اور فائنل میں جگہ بنانے کے امکانات بہتر کرنے کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔
پاکستان اور سری لنکا پر سست اوور ریٹ کے باعث جرمانے
دریں اثنا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے راولپنڈی میں ون ڈے سہ فریقی سیریز کے افتتاحی میچ میں سست اوور ریٹ پر پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں پر جرمانے عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق میچ ریفری جیف کرو نے پاکستان کے کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا، کیونکہ مقررہ وقت میں پاکستانی ٹیم اپنے ہدف سے دو اوورز پیچھے رہی۔
سری لنکا کے کھلاڑیوں پر میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، کیونکہ ان کی ٹیم مقررہ وقت میں ایک اوور کم کرانے کی ذمہ دار قرار پائی۔
آئی سی سی نے بتایا کہ کھلاڑیوں کے ضابطۂ اخلاق کے تحت مقررہ وقت میں ہر کم اوور پر متعلقہ کھلاڑی کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
یہ جرمانے اتوار کو راولپنڈی میں کھیلے گئے سہ فریقی سیریز کے افتتاحی میچ کے بعد عائد کیے گئے۔


