راولپنڈی (ایم این این); سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو جاری بیان میں بتائی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیاں 3 اور 4 جون 2026 کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان اور مہمند اضلاع میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آپریشن کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مہمند ضلع میں بھی ایک علیحدہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مزید دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ یہ عناصر علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ "عزمِ استحکام” مہم کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف جاری جنگ پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پاکستان میں 2021 کے بعد، جب افغانستان میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر پاکستان نے "آپریشن غضب للحق” شروع کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اس آپریشن کے دوران تقریباً 684 افغان طالبان جنگجو اور ان کے حامی عسکریت پسند ہلاک، 900 سے زائد زخمی جبکہ 252 دہشت گرد چوکیاں تباہ کی گئیں۔
اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب افغان طالبان اور ان سے وابستہ عسکریت پسندوں نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے۔ جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد جنگجو مارے گئے جبکہ وطن کے دفاع میں 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔
اگرچہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان متعدد ادوار کے مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں ممالک کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان حکام کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث سیکیورٹی چیلنجز برقرار ہیں۔


