وزیراعظم شہباز شریف کا پاک-امریکا تعلقات کو خصوصی شراکت داری قرار، صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا

0
6

اسلام آباد (ایم این این); وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاکستان اور امریکا کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تعلقات کو ایک “حقیقی اور خصوصی شراکت داری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے روابط سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سائنس، تعلیم اور دیگر متعدد شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

امریکا کے 250 ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے تاریخ کے اہم ترین ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کیا، چاہے وہ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملہ ہو یا 2001 سے 2021 تک جاری عالمی جنگ برائے انسداد دہشت گردی۔

وزیراعظم نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت اور فیصلہ کن مداخلت کے نتیجے میں 10 مئی گزشتہ سال جنگ بندی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کی بحالی اور لاکھوں جانوں کو ممکنہ تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا، جس پر پاکستان ہمیشہ ان کا شکر گزار رہے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے پاک-امریکا تعلقات کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو آزادی کے فوراً بعد تسلیم کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائداعظم محمد علی جناح کو مبارکباد کا خط بھیجا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات صرف دفاع اور سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صحت، تعلیم، سائنسی تحقیق، توانائی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر مبنی ہیں۔

وزیراعظم نے امریکا کے بانی رہنماؤں کے وژن، آزادی، خود اختیاری اور انسانی وقار کے اصولوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ امریکا کی ترقی کی داستان امید، عزم اور روشن مستقبل پر یقین کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا عالمی سطح پر اعتماد، متحرک سفارت کاری اور امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے پاکستان کی ترقی میں امریکی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ریولوشن، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے تعاون، تربیلا ڈیم کی تعمیر، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں امریکا کی معاونت نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جامعات سے فارغ التحصیل ہزاروں پاکستانی، سائنس دان، اساتذہ اور محققین ملک کی معیشت، تعلیم، کاروبار اور عوامی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد افراد کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ تقریباً دس لاکھ پاکستانی نژاد امریکی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 80 امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اور امن کوششوں میں مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کے اظہار کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے جاری امن عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ واشنگٹن کا بھی ذکر کیا، جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ علاقائی اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے تعاون سے جاری سفارتی کوششیں جلد خطے میں پائیدار امن کے قیام کا باعث بنیں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کی ناظم الامور نٹالی بیکر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان اور امریکا نے ایک دوسرے کو حقیقی تزویراتی شراکت دار کے طور پر اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض مفادات پر مبنی نہیں بلکہ باہمی احترام، مشترکہ اہداف اور سلامتی و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔

نٹالی بیکر کے مطابق صدر ٹرمپ نے مئی 2025 کی پاک-بھارت جنگ بندی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے اسے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے بحران کے دوران تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، جسے واشنگٹن میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

امریکی سفارتکار نے کہا کہ ستمبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں۔

نٹالی بیکر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی براہ راست سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ایک مضبوط پاکستان امریکا کے مفاد میں ہے اور ایک مضبوط امریکا پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں