ایران جنگ کے باوجود طیاروں کے آرڈرز مؤخر نہ کیے جائیں، آئی اے ٹی اے کا مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز کو مشورہ

0
6

ریو ڈی جنیرو (ایم این این): بین الاقوامی فضائی نقل و حمل تنظیم نے مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران سے متعلق جاری تنازع اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث طیاروں کے آرڈرز مؤخر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ ایسا فیصلہ طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ آئی اے ٹی اے کے سالانہ اجلاس کے موقع پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے تنظیم کے علاقائی نائب صدر کامل العوضی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ ایران جنگ یا ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیوں کے طیارہ خریداری منصوبوں پر نمایاں اثر ڈالیں گی۔

مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیاں دنیا کی بڑی طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ایئربس کی اہم خریداروں میں شمار ہوتی ہیں، اور کامل العوضی کے مطابق موجودہ حالات کے باعث آرڈرز مؤخر کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جدید طیاروں کی فراہمی میں پہلے ہی کئی سال لگ جاتے ہیں، خصوصاً ایئربس کے نئے سنگل آئل طیاروں کی ترسیل کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر آرڈرز ملتوی کیے گئے تو ایئرلائنز کو اپنے طیارے حاصل کرنے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔

کامل العوضی نے کہا کہ طیاروں کے آرڈرز میں تاخیر کا براہ راست مالی نقصان ہوتا ہے، اس لیے ایئرلائنز کو موجودہ مشکلات کے باوجود اپنی طویل مدتی منصوبہ بندی جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک عارضی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے کی فضائی کمپنیاں اپنے بیڑے میں توسیع اور جدید طیاروں کی شمولیت کے منصوبوں پر عمل جاری رکھیں گی۔

دوسری جانب ایران جنگ کے باعث جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی فضائی صنعت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کئی ایئرلائنز اخراجات کم کرنے کے لیے پروازوں میں کمی اور کرایوں و اضافی فیسوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔

کامل العوضی نے اس ہفتے کویت کے ایک ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے زیر استعمال ایک ٹرمینل کو نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ دستیاب تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق نقصان کافی زیادہ ہے اور متاثرہ ٹرمینل کی مکمل بحالی میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس صورتحال کے باعث غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو کویت میں اپنی پروازیں جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ کویتی حکام زیر تعمیر نئے ٹرمینل کے کچھ حصوں کی تکمیل کا عمل تیز کریں یا پھر غیر ملکی ایئرلائنز کو عارضی طور پر ان ٹرمینلز سے آپریشن کی اجازت دیں جو اس وقت قومی فضائی کمپنی کویت ایئرویز اور دیگر مقامی کمپنیوں کے استعمال میں ہیں۔

آئی اے ٹی اے کے مطابق موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیاں اپنے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور جدید طیاروں کی خریداری کے عمل کو جاری رکھیں گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں