اسلام آباد (ایم این این): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پیر کے روز کہا ہے کہ جن افراد کے بیانات سے پروگرام کے مستحق خاندانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، انہیں معذرت کرنی چاہیے، کیونکہ فلاحی پروگراموں کو سیاسی تنقید اور توہین آمیز تبصروں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ دنوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق سامنے آنے والے بیانات پر ردعمل دیا، تاہم انہوں نے کسی شخصیت کا نام نہیں لیا۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے بدعنوانی سے متاثر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پروگرام لوگوں کو خود کفیل بنانے کے بجائے انحصار کی طرف لے جاتا ہے۔
روبینہ خالد نے ان خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایسے محنت کش اور کم آمدن والے خاندانوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، لیکن مشکل حالات میں انہیں ریاستی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں غربت اور محتاجی سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
چیئرپرسن نے عوامی شخصیات اور رائے سازوں پر زور دیا کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جو مستحق خاندانوں کی عزت نفس کو مجروح کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ریمارکس نہ صرف نامناسب ہیں بلکہ ان خاندانوں کی توہین کے مترادف بھی ہیں جو ریاستی امداد حاصل کر رہے ہیں۔
روبینہ خالد نے کہا کہ جن افراد کے الفاظ سے مستحقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، انہیں ان خاندانوں سے معذرت کرنی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں بہتری کے لیے تجاویز اور تعمیری تنقید کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، تاہم تضحیک آمیز زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو سیاسی مقاصد کے لیے نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
روبینہ خالد نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر مکمل اعتماد ہے اور حکومت اس پروگرام کو سماجی تحفظ کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نادرا کے بعد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا بیس ملک کا سب سے بڑا سماجی فلاحی ڈیٹا بیس ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پروگرام کے اعداد و شمار کے بارے میں غیر مصدقہ اور عمومی نوعیت کے الزامات عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
روبینہ خالد نے کہا کہ کسی ادارے کو بنانے اور مضبوط کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، لیکن بے بنیاد اور وسیع الزامات چند لمحوں میں اس کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔


