تہران (ایم این این): ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے خصوصاً جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے تو اس کا پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے مطابق اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کے بعد فوجی آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امن کے لیے حتمی مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم غلط فیصلے یا غیر سنجیدگی اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ادھر لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے انکشاف کیا ہے کہ سولہ اپریل کو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل لبنان میں تقریباً ساڑھے تین ہزار فضائی حملے اور سیکڑوں کنٹرولڈ دھماکے کر چکا ہے۔ ان کے مطابق سترہ اپریل سے سات جون تک اسرائیل نے تین ہزار چار سو اکیانوے فضائی حملے، چار سو سات کنٹرولڈ انہدامی کارروائیاں اور چھ بڑے پیمانے پر تباہی کی کارروائیاں کیں۔
نواف سلام نے کہا کہ جنوبی لبنان کے متعدد دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے نقل مکانی کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے جس سے لبنان پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دونوں ممالک سے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوراً فائرنگ بند کر دینی چاہیے۔
اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران نے رات بھر میں اسرائیل کی جانب تقریباً تیس بیلسٹک میزائل داغے۔ اپریل کی جنگ بندی کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی بڑی براہ راست جھڑپ قرار دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل کی جانب دو میزائل فائر کیے۔
کشیدہ صورتحال کے باعث ایران کے شہر شیراز کے شہید آیت اللہ دستغیب ہوائی اڈے سے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ حکام نے اعلان کیا کہ مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے تک تمام پروازیں منسوخ رہیں گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی فضاؤں میں ایک ڈرون کو، جسے ’’امریکی۔صہیونی دشمن‘‘ کا ڈرون قرار دیا گیا، فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ اسی دوران اصفہان میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مرکزی تہران میں ایک زور دار دھماکے نے ایرانی وزارت خارجہ کے اطراف کے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں صحافی ایک پریس کانفرنس میں شریک تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد دھماکوں کا تعلق فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں سے تھا۔
ایران نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں اور پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بھی بدستور جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باوجود سفارتی مشاورت کا عمل نہیں رکا۔
آئی آر جی سی نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران نے اپنی ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملے کے جواب میں اسرائیل کے شہر حیفا میں واقع صنعتی اہداف کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی سے امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی عمل متاثر ہونا فطری امر ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے واقعات نے عدم اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے اور مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ ہے اور ایران اسرائیل یا امریکہ کو اس معاہدے کے اس حصے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے ایران کے مختلف علاقوں میں نصب اسٹریٹجک فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق درجنوں لڑاکا طیاروں نے ان کارروائیوں میں حصہ لیا جس سے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ پر اسرائیل نے دو حملے کیے، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔
سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ماہشہر پورٹ انتظامیہ نے سرکاری دفاتر میں عملے کی تعداد تیس فیصد تک محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ہنگامی خدمات، بجلی، پانی اور گیس سے متعلق ادارے معمول کے مطابق مکمل استعداد کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔
تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جہاں فوجی کارروائیوں، سفارتی کوششوں اور علاقائی ثالثی کے عمل ایک ساتھ جاری ہیں جبکہ وسیع تر جنگ کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔


