فلپائن میں 7.8 شدت کے ہولناک زلزلے سے 31 افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی، سونامی الرٹ اور بڑے پیمانے پر تباہی

0
3
Emergency crew conduct rescue operations outside a building that collapsed during the earthquake, in La Trinidad, Benguet, Philippines July 27, 2022. Public Information Service-Bureau of Fire Protection /Handout via REUTERS

منیلا (ایم این این): فلپائن کے جنوبی علاقوں میں پیر کے روز آنے والے 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق جبکہ 134 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زلزلے نے متعدد عمارتیں منہدم کر دیں اور بحرالکاہل کے کئی ممالک میں سونامی کے خدشات کے باعث ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے، جنہیں بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔

فلپائنی حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ زلزلے کا مرکز جنرل سانتوس شہر کے جنوب میں سمندر میں تھا، جہاں کم از کم نو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ابتدائی زلزلے کے تقریباً دو گھنٹے بعد طاقتور آفٹر شاکس کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے شدید بعد از زلزلہ جھٹکے کی شدت 6.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ فلپائنی زلزلہ پیما ادارے نے مائنڈاناؤ میں کم از کم نو شدید جھٹکوں کی تصدیق کی۔

جنرل سانتوس شہر میں امدادی کارکن ایک بڑی سپر مارکیٹ کے ملبے تلے دبے دو ملازمین کی لاشوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ سرانگانی صوبہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار پایا۔

سرانگانی کے ڈیزاسٹر چیف رینے پنزالان کے مطابق گلان میونسپلٹی میں پہاڑ کے دامن میں واقع گھروں پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کے فوراً بعد زمین کھسکنے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ بجلی کی بندش اور مواصلاتی نظام کی خرابی کے باعث متاثرہ علاقوں سے مکمل معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکام نے مسلسل بعد از زلزلہ جھٹکوں کے باعث مزید نقصان اور خوف و ہراس کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اور تصدیق شدہ ویڈیوز میں جنرل سانتوس شہر کا ایک شاپنگ سینٹر مکمل طور پر تباہ دکھایا گیا، جہاں معروف فاسٹ فوڈ ریستوران بھی موجود تھا۔ ایک خالی اسکول کی عمارت بھی مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔

ایک اور ویڈیو میں ننھے طلبہ کو شدید خوف کے عالم میں اپنے اساتذہ سے لپٹے اور چیختے ہوئے دیکھا گیا جبکہ زمین مسلسل لرز رہی تھی۔ بعد ازاں اسکول کے قریب قائم ایک عارضی دھاتی ڈھانچہ بھی گر گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سونامی وارننگ کے بعد ساحلی علاقوں سے دو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جو حکام کی جانب سے اجازت ملنے کے منتظر ہیں تاکہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔

بحرالکاہل سونامی وارننگ مرکز نے ابتدائی طور پر فلپائن، انڈونیشیا، پلاؤ، تائیوان اور پاپوا نیو گنی کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی الرٹ جاری کیا تھا، تاہم بعد ازاں خطرہ کم ہونے پر تمام وارننگز ختم کر دی گئیں۔

جاپان میں بھی سونامی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، تاہم وہاں ساحل سے ٹکرانے والی لہروں کی اونچائی 20 سینٹی میٹر سے کم ریکارڈ کی گئی۔

فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے مائنڈاناؤ بھر میں فوری ہنگامی امدادی کارروائیوں کا حکم دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو امدادی سامان، پناہ گاہوں اور ریسکیو آپریشنز کی تیاری کی ہدایت کی۔

صدر نے مائنڈاناؤ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے اور ساحلی آبادی کو فوری طور پر بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ جان کا تحفظ ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔

دوسری جانب جنرل سانتوس ہوائی اڈے کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ویڈیوز میں ٹرمینل کی چھت کے کچھ حصے سامان وصولی کے علاقے میں گرتے دکھائی دیے۔

شہر کے ایک اسپتال کو عمارت میں دراڑیں پڑنے کے خدشے کے باعث خالی کرا لیا گیا جبکہ نوٹرے ڈیم آف ڈاڈیانگاس یونیورسٹی کی ایک عمارت بھی منہدم ہوگئی، تاہم خوش قسمتی سے اس میں کوئی موجود نہیں تھا۔

یونیورسٹی کے صدر مینوئل ڈی لیون نے زلزلے کو غیر معمولی طور پر طویل اور شدید قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فوراً میز کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہوگئے کیونکہ زلزلہ انتہائی طاقتور تھا اور کافی دیر تک جاری رہا۔

فلپائنی فوج نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی ہیں جبکہ مقامی حکام نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

الابیل قصبے کے پولیس سربراہ بینجی اینچیٹا نے بتایا کہ زلزلہ اس وقت آیا جب پولیس اہلکار پرچم کشائی کی تقریب میں شریک تھے، جس کے باعث کئی افراد بے ہوش ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے شدید زلزلہ تھا۔

یہ تباہ کن زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب صرف آٹھ ماہ قبل فلپائن گزشتہ بارہ برسوں کے مہلک ترین زلزلے سے دوچار ہوا تھا۔ اس وقت سیبو جزیرے کے قریب 6.9 شدت کے زلزلے میں 79 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس کے دو ہفتے بعد مائنڈاناؤ میں مزید دو طاقتور زلزلے آئے جن میں ایک کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔

فلپائن بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر” نامی زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، جہاں ہر سال سیکڑوں زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ملک مسلسل زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کے خطرات سے دوچار رہتا ہے۔

ادھر ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ متاثرہ افراد کی سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں اور مشکل گھڑی میں ان کے لیے ہمت اور استقامت کی خواہش کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں